حسرت موہانی

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ( حسرت موہانی)

07 December 2025

20سپیکرز
246لسنرز

سپیکرز

سحر کا پیش کردہ کلام

تجھ کو پاسِ وفا ذرا نہ ہوا

تجھ کو پاسِ وفا ذرا نہ ہوا ہم سے پھر بھی ترا گلہ نہ ہوا ایسے بگڑے کہ پھر جفا بھی نہ کی دشمنی کا بھی حق ادا نہ ہوا کٹ گئی احتیاطِ عشق میں عمر ہم سے اظہار مدعا نہ ہوا مر مٹے ہم تو مٹ گئے سب رنج یہ بھی اچھا ہوا برا نہ ہوا تم جفا کار تھے کرم نہ کیا میں وفادار تھا خفا نہ ہوا ہجر میں جان مضطرب کو سکوں آپ کی یاد کے سوا نہ ہوا رہ گئی تیرے قصرِ عشق کی شرم میں جو محتاج اغنیا نہ ہوا​

— حسرت موہانی

گم گشتہ کسی خواب کے منظر سے نکل کر

گم گشتہ کسی خواب کے منظر سے نکل کر غزلوں میں ڈھلے لفظ سمندر سے نکل کر کر دیتی ہے آباد مری آنکھوں کی دنیا حسرت تری تصویر کے اندر سے نکل کر رشتوں کی تمازت سے ہوا جاتا ہوں صحرا جاؤں تو کہاں جاؤں مقدر سے نکل کر کہتے ہیں تو کہتے ہیں یہ تلوار کے آنسو بنتے نہیں غازی کبھی لشکر سے نکل کر یہ جوگ تھا یا ہجر کی قوت تھی یا جادو اک آہ غزل ہوگئی اندر سے نکل کر سیراب مجھے کر گئی حیرت ہے مجھے بھی اک نفرتِ دل یار کے خنجر سے نکل کر عزت بھی گئی مان گیا ٹوٹا بھروسا آواز پہ اے عشق تری گھر سے نکل کر دیوار کو سیلن زدہ کرتا رہا نوحہ لٹکی ہوئی تصویرِ ستمگر سے نکل کر بک جائیں گے اک روز یہ تقدیر کے آنسو اٹھ باندھ کمر دوڑ لگا گھر سے نکل کر یہ موجِ نسیمی ہے یہ ہو جائے گی تصویر دیکھو گے اگر سوچ کے محور سے نکل کر

— حسرت موہانی