حسرت موہانی

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ( حسرت موہانی)

07 December 2025

20سپیکرز
246لسنرز

سپیکرز

ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام

اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہے

اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہے اک ترے درد کو پہلو میں چھپا رکھا ہے دل سے ارباب وفا کا ہے بھلانا مشکل ہم نے یہ ان کے تغافل کو سنا رکھا ہے تم نے بال اپنے جو پھولوں میں بسا رکھے ہیں شوق کو اور بھی دیوانہ بنا رکھا ہے سخت بے درد ہے تاثیر محبت کہ انہیں بستر ناز پہ سوتے سے جگا رکھا ہے آہ وہ یاد کہ اس یاد کو ہو کر مجبور دل مایوس نے مدت سے بھلا رکھا ہے کیا تأمل ہے مرے قتل میں اے بازو یار ایک ہی وار میں سر تن سے جدا رکھا ہے حسن کو جور سے بیگانہ نہ سمجھو کہ اسے یہ سبق عشق نے پہلے ہی پڑھا رکھا ہے تیری نسبت سے ستم گر ترے مایوسوں نے داغ حرماں کو بھی سینے سے لگا رکھا ہے کہتے ہیں اہل جہاں درد محبت جس کو نام اسی کا دل مضطر نے دوا رکھا ہے نگہ یار سے پیکان قضا کا مشتاق دل مجبور نشانے پہ کھلا رکھا ہے اس کا انجام بھی کچھ سوچ لیا ہے حسرتؔ تو نے ربط ان سے جو اس درجہ بڑھا رکھا ہے

— حسرت موہانی

محبت کے عوض رہنے لگے ہر دم خفا مجھ سے

محبت کے عوض رہنے لگے ہر دم خفا مجھ سے کہو تو ایسی کیا سرزد ہوئی آخر خطا مجھ سے ملیں بھی وہ تو کیونکر آرزو بر آئے گی دل کی نہ ہوگا خود خیال ان کو نہ ہوگی التجا مجھ سے قرار آتا نہیں دل کو کسی عنوان پہلو میں ہوا ہے آشنا جب سے وہ کافر ماجرا مجھ سے غنیمت ہے جہان عاشقی میں ذات دونوں کی کہ نام جور قائم تم سے ہے رسم وفا مجھ سے فلک سے بھی ہے کیا بڑھ کر بلندی بام جاناں کی یہ پوچھا کرتی ہے اکثر مری آہ رسا مجھ سے مگر سیر چمن کو آج وہ پھر آنے والے ہیں ابھی کچھ کہہ رہی تھی کان میں باد صبا مجھ سے محبت بھی عجب شے ہے کہ با وصف شناسائی نہیں ہوتی مخاطب وہ نگاہ آشنا مجھ سے سکون قلب کی امید اب کیا ہو کہ رہتی ہے تمنا کی دو چار اک ہر گھڑی برق بلا مجھ سے تقاضہ ہے یہی خوئے نیاز عشق بازی کا نہ ہوگا اس سراپا ناز کا حسرتؔ گلا مجھ سے

— حسرت موہانی