سپیکرز
ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام
اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہے
اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہے اک ترے درد کو پہلو میں چھپا رکھا ہے دل سے ارباب وفا کا ہے بھلانا مشکل ہم نے یہ ان کے تغافل کو سنا رکھا ہے تم نے بال اپنے جو پھولوں میں بسا رکھے ہیں شوق کو اور بھی دیوانہ بنا رکھا ہے سخت بے درد ہے تاثیر محبت کہ انہیں بستر ناز پہ سوتے سے جگا رکھا ہے آہ وہ یاد کہ اس یاد کو ہو کر مجبور دل مایوس نے مدت سے بھلا رکھا ہے کیا تأمل ہے مرے قتل میں اے بازو یار ایک ہی وار میں سر تن سے جدا رکھا ہے حسن کو جور سے بیگانہ نہ سمجھو کہ اسے یہ سبق عشق نے پہلے ہی پڑھا رکھا ہے تیری نسبت سے ستم گر ترے مایوسوں نے داغ حرماں کو بھی سینے سے لگا رکھا ہے کہتے ہیں اہل جہاں درد محبت جس کو نام اسی کا دل مضطر نے دوا رکھا ہے نگہ یار سے پیکان قضا کا مشتاق دل مجبور نشانے پہ کھلا رکھا ہے اس کا انجام بھی کچھ سوچ لیا ہے حسرتؔ تو نے ربط ان سے جو اس درجہ بڑھا رکھا ہے
محبت کے عوض رہنے لگے ہر دم خفا مجھ سے
محبت کے عوض رہنے لگے ہر دم خفا مجھ سے کہو تو ایسی کیا سرزد ہوئی آخر خطا مجھ سے ملیں بھی وہ تو کیونکر آرزو بر آئے گی دل کی نہ ہوگا خود خیال ان کو نہ ہوگی التجا مجھ سے قرار آتا نہیں دل کو کسی عنوان پہلو میں ہوا ہے آشنا جب سے وہ کافر ماجرا مجھ سے غنیمت ہے جہان عاشقی میں ذات دونوں کی کہ نام جور قائم تم سے ہے رسم وفا مجھ سے فلک سے بھی ہے کیا بڑھ کر بلندی بام جاناں کی یہ پوچھا کرتی ہے اکثر مری آہ رسا مجھ سے مگر سیر چمن کو آج وہ پھر آنے والے ہیں ابھی کچھ کہہ رہی تھی کان میں باد صبا مجھ سے محبت بھی عجب شے ہے کہ با وصف شناسائی نہیں ہوتی مخاطب وہ نگاہ آشنا مجھ سے سکون قلب کی امید اب کیا ہو کہ رہتی ہے تمنا کی دو چار اک ہر گھڑی برق بلا مجھ سے تقاضہ ہے یہی خوئے نیاز عشق بازی کا نہ ہوگا اس سراپا ناز کا حسرتؔ گلا مجھ سے