سپیکرز
نایاب کا پیش کردہ کلام
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانا یاد ہے باہزاراں اضطراب و صدہزاراں اشتیاق تجھ سے وہ پہلے پہل دل کا لگانا یاد ہے بار بار اٹھنا اسی جانب نگاہ شوق کا اور ترا غرفے سے وہ آنکھیں لڑانا یاد ہے تجھ سے کچھ ملتے ہی وہ بے باک ہو جانا مرا اور ترا دانتوں میں وہ انگلی دبانا یاد ہے کھینچ لینا وہ مرا پردے کا کونا دفعتاً اور دوپٹے سے ترا وہ منہ چھپانا یاد ہے جان کر سوتا تجھے وہ قصد پا بوسی مرا اور ترا ٹھکرا کے سر وہ مسکرانا یاد ہے تجھ کو جب تنہا کبھی پانا تو از راہ لحاظ حال دل باتوں ہی باتوں میں جتانا یاد ہے جب سوا میرے تمہارا کوئی دیوانہ نہ تھا سچ کہو کچھ تم کو بھی وہ کارخانا یاد ہے غیر کی نظروں سے بچ کر سب کی مرضی کے خلاف وہ ترا چوری چھپے راتوں کو آنا یاد ہے آ گیا گر وصل کی شب بھی کہیں ذکر فراق وہ ترا رو رو کے مجھ کو بھی رلانا یاد ہے دوپہر کی دھوپ میں میرے بلانے کے لیے وہ ترا کوٹھے پہ ننگے پاؤں آنا یاد ہے آج تک نظروں میں ہے وہ صحبت راز و نیاز اپنا جانا یاد ہے تیرا بلانا یاد ہے میٹھی میٹھی چھیڑ کر باتیں نرالی پیار کی ذکر دشمن کا وہ باتوں میں اڑانا یاد ہے دیکھنا مجھ کو جو برگشتہ تو سو سو ناز سے جب منا لینا تو پھر خود روٹھ جانا یاد ہے چوری چوری ہم سے تم آ کر ملے تھے جس جگہ مدتیں گزریں پر اب تک وہ ٹھکانا یاد ہے شوق میں مہندی کے وہ بے دست و پا ہونا ترا اور مرا وہ چھیڑنا وہ گدگدانا یاد ہے باوجود ادعائے اتقا حسرتؔ مجھے آج تک عہد ہوس کا وہ فسانا یاد ہے
جو دور سے بھی نظر تجھ پہ یار ہم کرتے
جو دور سے بھی نظر تجھ پہ یار ہم کرتے ہزار جان گرامی نثار ہم کرتے ترے خیال سے باتیں ہزار ہم کرتے غم فراق کو یوں خوش گوار ہم کرتے ہوائے گل میں نہ پروائے خار ہم کرتے رہ طلب میں قدم استوار ہم کرتے ابھی کچھ اور دم واپسیں ٹھہر جاتا کچھ اور بھی جو ترا انتظار ہم کرتے وہ بار بار سزا جرم شوق پر دیتے مگر قصور وہی بار بار ہم کرتے ترے ستم کی شکایت ضرورت کیا تھی ہمیں کہ شوق سے گلۂ روزگار ہم کرتے غبار راہ محبت اگر کہیں ملتا تو اس کو تاج سر افتخار ہم کرتے دلوں کی دشت تمنا میں تھی فراوانی وہ کہتے ہیں کہ کہاں تک شکار ہم کرتے وہ وقت بھی کہیں آتا کہ عرض حال کے بعد تری جفا پہ تجھے شرمسار ہم کرتے ترا خیال نہ دل سے کسی طرح جاتا تجھے نہ بھولتے کوشش ہزار ہم کرتے جو نام آپ کا لیتے سکون غم کے لئے تو دل کو اور بھی کچھ بیقرار ہم کرتے سمجھ کے چھوڑ دئے بے حساب آخر کار کہ دل کے داغ کہاں تک شمار ہم کرتے ابھی سے تجھ پہ فدا ہو گئے تو غم کیا ہے کہ یہ وہی ہے جو پایان کار ہم کرتے بڑا گناہ کیا ترک مے سے شک میں پڑے یقین رحمت آمرزگار ہم کرتے عدو سے کیوں ہیں وہ راضی نہ کچھ کھلا حسرتؔ کہ پھر طریق وہی اختیار ہم کرتے