سپیکرز
ایمان کا پیش کردہ کلام
عاشقوں سے ناروا ہے ہے وفائی آپ کی
عاشقوں سے ناروا ہے ہے وفائی آپ کی حد سے بڑھ جائے نہ شان کج ادائی آپ کی آرزو کے دل پہ آئیں گی نہ کیا کیا آفتیں در پیے انکار ہے ناآشنائی آپ کی خوبرو ہیں آپ مانا ہم نے پھر بھی اس قدر دیکھیے اچھی نہیں ہے خود ستائی آپ کی رہ گئی اہل ہوس میں یادگار حسن و عشق ناز برداری ہماری دلربائی آپ کی مجھ سے اکثر یہ کہا کرتا ہے وہ مخمور ناز دیکھیے نبھتی ہے کب تک پارسائی آپ کی اک ہمیں تو کچھ نہیں ہیں آپ کے طاعت گزار تابع فرماں ہوئی ساری خدائی آپ کی کیسے دیکھے کون دیکھے آپ کا نور جمال جان جب ٹھہری ہوئی ہو رونمائی آپ کی آپ کو آتا رہا میرے ستانے کا خیال صلح سے اچھی رہی مجھ کو لڑائی آپ کی برق کا اکثر یہ کہنا یاد آتا ہے مجھے تنکے چنوانے لگی ہم سے جدائی آپ کی عرض کر کے حال دل کس درجہ ہیں محجوب ہم دیکھ کر غصے میں صورت تمتمائی آپ کی شاہ جیلاں کے سوا مشکل کشا کے واسطے کون کرتا اور حسرتؔ رہنمائی آپ کی
تاباں جو نور حسن بہ سیمائے عشق ہے
تاباں جو نور حسن بہ سیمائے عشق ہے کس درجہ دل پذیر تماشائے عشق ہے ارباب ہوش جتنے ہیں بیمار عقل ہیں ان کے لیے ضرور مداوائے عشق ہے میں کیا ہوں ایک ذرۂ صحرائے اشتیاق دل کیا ہے ایک قطرۂ دریائے عشق ہے شاہ و گدا کا فرق نہیں عہد حسن میں اب جس کو دیکھیے اسے دعوائے عشق ہے ظاہر ہے بے قرارئ پیہم سے حال دل بے کار ہم کو دعوائے اخفائے عشق ہے پنہاں حجاب ناز میں ہے صورت جمال پیدا حروف شوق سے معنائے عشق ہے اے اہل عقل کیوں ہو اسے فکر نام و ننگ حسرتؔ خراب عشق ہے رسوائے عشق ہے
کیا تم کو علاج دل شیدا نہیں آتا
کیا تم کو علاج دل شیدا نہیں آتا آتا ہے پر اس طرح کہ گویا نہیں آتا ہو جاتی تھی تسکین سو اب فرط الم سے اس بات کو روتے ہیں کہ رونا نہیں آتا تم ہو کہ تمہیں وعدہ وفائی کی نہیں خو میں ہوں کہ مجھے تم سے تقاضا نہیں آتا ہے پاس یہ کس کی نگہ محو حیا کا لب تک جو مرے حرف تمنا نہیں آتا ان کی نگہ مست کے جلوے ہیں نظر میں بھولے سے بھی ذکر مے و مینا نہیں آتا شوخی سے وہ معنائے ستم پوچھ رہے ہیں اب لفظ جفا بھی انہیں گویا نہیں آتا میں درد کی لذت سے رضامند ہوں حسرتؔ مجھ کو ستم یار کا شکوا نہیں آتا