سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
سحر
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
ابو لقمان
انتظار حسین
ایم سعید
حسن شبیر
حماد ابراہیم
حمزہ
رابعہ
راجا اکرام قمر
ریبل
زیشان
علی نقوی
کریسنٹ
محمدشہزاد
مرزا جواد
ملک
نایاب
ندیم بخاری
نین سکھ
وقاراحسن
یادرفتگان
نین سکھ کا پیش کردہ کلام
نگاہ یار جسے آشنائے راز کرے
نگاہ یار جسے آشنائے راز کرے وہ اپنی خوبی قسمت پہ کیوں نہ ناز کرے دلوں کو فکر دوعالم سے کر دیا آزاد ترے جنوں کا خدا سلسلہ دراز کرے خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ترے ستم سے میں خوش ہوں کہ غالباً یوں بھی مجھے وہ شامل ارباب امتیاز کرے غم جہاں سے جسے ہو فراغ کی خواہش وہ ان کے درد محبت سے ساز باز کرے امیدوار ہیں ہر سمت عاشقوں کے گروہ تری نگاہ کو اللہ دل نواز کرے ترے کرم کا سزاوار تو نہیں حسرتؔ اب آگے تیری خوشی ہے جو سرفراز کرے