حسرت موہانی

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ( حسرت موہانی)

07 December 2025

20سپیکرز
246لسنرز

سپیکرز

کریسنٹ کا پیش کردہ کلام

روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام

روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام دہکا ہوا ہے آتش گل سے چمن تمام حیرت غرور حسن سے شوخی سے اضطراب دل نے بھی تیرے سیکھ لیے ہیں چلن تمام اللہ ری جسم یار کی خوبی کہ خودبخود رنگینیوں میں ڈوب گیا پیرہن تمام دل خون ہو چکا ہے جگر ہو چکا ہے خاک باقی ہوں میں مجھے بھی کر اے تیغ زن تمام دیکھو تو چشم یار کی جادو نگاہیاں بے ہوش اک نظر میں ہوئی انجمن تمام ہے ناز حسن سے جو فروزاں جبین یار لبریز آب نور ہے چاہ ذقن تمام نشو و نمائے سبزہ و گل سے بہار میں شادابیوں نے گھیر لیا ہے چمن تمام اس نازنیں نے جب سے کیا ہے وہاں قیام گلزار بن گئی ہے زمین دکن تمام اچھا ہے اہل جور کیے جائیں سختیاں پھیلے گی یوں ہی شورش حب وطن تمام سمجھے ہیں اہل شرق کو شاید قریب مرگ مغرب کے یوں ہیں جمع یہ زاغ و زغن تمام شیرینئ نسیم ہے سوز و گداز میرؔ حسرتؔ ترے سخن پہ ہے لطف سخن تمام

— حسرت موہانی

مجھ کو خبر نہیں کہ مِرا مرتبہ ہے کیا

مجھ کو خبر نہیں کہ مِرا مرتبہ ہے کیا یہ تیرے اِلتفات نے آخر کِیا ہے کیا مِلتی کہاں گُداز طبیعت کی لذَّتیں رنجِ فراقِ یار بھی راحت فزا ہے کیا حاضرہے جانِ زار، جو چاہو مجھے ہلاک ! معلوُم بھی تو ہو، کہ تمہاری رضا ہے کیا ہُوں دردِ لادَوائے محّبت کا مُبتلا مجھ کو خبر نہیں کہ دَوا کیا، دُعا ہے کیا میری خطا پہ آپ کو لازم نہیں نظر یہ دیکھئے مُناسبِ شانِ عَطا ہے کیا ہیں بہترین صُلح پہ ظاہر کی رنجشیں ناحق ہُوں میں ملوُل، وہ مجھ سے خفا ہے کیا؟ گروِیدہ جس سے تو ہے، خبر بھی نہیں اُسے پھر تیرے اِضطراب کی حسرؔت بِنا ہے کیا ؟

— حسرت موہانی