سپیکرز
کریسنٹ کا پیش کردہ کلام
روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام
روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام دہکا ہوا ہے آتش گل سے چمن تمام حیرت غرور حسن سے شوخی سے اضطراب دل نے بھی تیرے سیکھ لیے ہیں چلن تمام اللہ ری جسم یار کی خوبی کہ خودبخود رنگینیوں میں ڈوب گیا پیرہن تمام دل خون ہو چکا ہے جگر ہو چکا ہے خاک باقی ہوں میں مجھے بھی کر اے تیغ زن تمام دیکھو تو چشم یار کی جادو نگاہیاں بے ہوش اک نظر میں ہوئی انجمن تمام ہے ناز حسن سے جو فروزاں جبین یار لبریز آب نور ہے چاہ ذقن تمام نشو و نمائے سبزہ و گل سے بہار میں شادابیوں نے گھیر لیا ہے چمن تمام اس نازنیں نے جب سے کیا ہے وہاں قیام گلزار بن گئی ہے زمین دکن تمام اچھا ہے اہل جور کیے جائیں سختیاں پھیلے گی یوں ہی شورش حب وطن تمام سمجھے ہیں اہل شرق کو شاید قریب مرگ مغرب کے یوں ہیں جمع یہ زاغ و زغن تمام شیرینئ نسیم ہے سوز و گداز میرؔ حسرتؔ ترے سخن پہ ہے لطف سخن تمام
مجھ کو خبر نہیں کہ مِرا مرتبہ ہے کیا
مجھ کو خبر نہیں کہ مِرا مرتبہ ہے کیا یہ تیرے اِلتفات نے آخر کِیا ہے کیا مِلتی کہاں گُداز طبیعت کی لذَّتیں رنجِ فراقِ یار بھی راحت فزا ہے کیا حاضرہے جانِ زار، جو چاہو مجھے ہلاک ! معلوُم بھی تو ہو، کہ تمہاری رضا ہے کیا ہُوں دردِ لادَوائے محّبت کا مُبتلا مجھ کو خبر نہیں کہ دَوا کیا، دُعا ہے کیا میری خطا پہ آپ کو لازم نہیں نظر یہ دیکھئے مُناسبِ شانِ عَطا ہے کیا ہیں بہترین صُلح پہ ظاہر کی رنجشیں ناحق ہُوں میں ملوُل، وہ مجھ سے خفا ہے کیا؟ گروِیدہ جس سے تو ہے، خبر بھی نہیں اُسے پھر تیرے اِضطراب کی حسرؔت بِنا ہے کیا ؟