حسرت موہانی

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ( حسرت موہانی)

07 December 2025

20سپیکرز
246لسنرز

سپیکرز

رابعہ کا پیش کردہ کلام

آشنا ہو کر نظر نا آشنا کرنے لگے

آشنا ہو کر نظر نا آشنا کرنے لگے ہم سے کیا دیکھا کہ تم پاس حیا کرنے لگے رشک آیا ہے مجھے کیا کیا جب ان کے روبرو مدعیٔ بیباک عرض مدعا کرنے لگے حلقۂ اغیار میں بھی پا کے ان کو گرم لطف ہم لب حسرت سے شور مرحبا کرنے لگے اور تو کچھ بھی نہ ہم سے اس کے آگے بن پڑا حسن خلق یار کی مدح و ثنا کرنے لگے دل ربائی کا بھی کچھ کچھ ڈھب انہیں آنے لگا بات مطلب کی اشاروں میں ادا کرنے لگے کون کہتا ہے کہ ہم ہیں مائل ترک وفا آپ ناحق اپنے دل کو بد مزا کرنے لگے بھول کر حکم خدا یاد بتاں رہنے لگی کیا تمہیں کرنا تھا حسرتؔ آہ کیا کرنے لگے

— حسرت موہانی