سپیکرز
راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام
وہ چپ ہو گئے مجھ سے کیا کہتے کہتے
وہ چپ ہو گئے مجھ سے کیا کہتے کہتے کہ دل رہ گیا مدعا کہتے کہتے مرا عشق بھی خود غرض ہو چلا ہے ترے حسن کو بے وفا کہتے کہتے شب غم کس آرام سے سو گئے ہیں فسانہ تری یاد کا کہتے کہتے یہ کیا پڑ گئی خوئے دشنام تم کو مجھے ناسزا برملا کہتے کہتے خبر ان کو اب تک نہیں مر مٹے ہم دل زار کا ماجرا کہتے کہتے عجب کیا جو ہے بدگماں سب سے واعظ برا سنتے سنتے برا کہتے کہتے وہ آئے مگر آئے کس وقت حسرتؔ کہ ہم چل بسے مرحبا کہتے کہتے
آپ نے قدر کچھ نہ کی دل کی
آپ نے قدر کچھ نہ کی دل کی اڑ گئی مفت میں ہنسی دل کی خو ہے از بس کہ عاشقی دل کی غم سے وابستہ ہے خوشی دل کی یاد ہر حال میں رہے وہ مجھے الغرض بات رہ گئی دل کی مل چکی ہم کو ان سے داد وفا جو نہیں جانتے لگی دل کی چین سے محو خواب ناز میں وہ بیکلی ہم نے دیکھ لی دل کی ہمہ تن صرف ہوشیارئ عشق کچھ عجب شے ہے بے خودی دل کی ان سے کچھ تو ملا وہ غم ہی سہی آبرو کچھ تو رہ گئی دل کی مر مٹے ہم نہ ہو سکی پوری آرزو تم سے ایک بھی دل کی وہ جو بگڑے رقیب سے حسرتؔ اور بھی بات بن گئی دل کی