حسرت موہانی

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ( حسرت موہانی)

07 December 2025

20سپیکرز
246لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

وہ چپ ہو گئے مجھ سے کیا کہتے کہتے

وہ چپ ہو گئے مجھ سے کیا کہتے کہتے کہ دل رہ گیا مدعا کہتے کہتے مرا عشق بھی خود غرض ہو چلا ہے ترے حسن کو بے وفا کہتے کہتے شب غم کس آرام سے سو گئے ہیں فسانہ تری یاد کا کہتے کہتے یہ کیا پڑ گئی خوئے دشنام تم کو مجھے ناسزا برملا کہتے کہتے خبر ان کو اب تک نہیں مر مٹے ہم دل زار کا ماجرا کہتے کہتے عجب کیا جو ہے بدگماں سب سے واعظ برا سنتے سنتے برا کہتے کہتے وہ آئے مگر آئے کس وقت حسرتؔ کہ ہم چل بسے مرحبا کہتے کہتے

— حسرت موہانی

آپ نے قدر کچھ نہ کی دل کی

آپ نے قدر کچھ نہ کی دل کی اڑ گئی مفت میں ہنسی دل کی خو ہے از بس کہ عاشقی دل کی غم سے وابستہ ہے خوشی دل کی یاد ہر حال میں رہے وہ مجھے الغرض بات رہ گئی دل کی مل چکی ہم کو ان سے داد وفا جو نہیں جانتے لگی دل کی چین سے محو خواب ناز میں وہ بیکلی ہم نے دیکھ لی دل کی ہمہ تن صرف ہوشیارئ عشق کچھ عجب شے ہے بے خودی دل کی ان سے کچھ تو ملا وہ غم ہی سہی آبرو کچھ تو رہ گئی دل کی مر مٹے ہم نہ ہو سکی پوری آرزو تم سے ایک بھی دل کی وہ جو بگڑے رقیب سے حسرتؔ اور بھی بات بن گئی دل کی

— حسرت موہانی