سپیکرز
ایم سعید کا پیش کردہ کلام
بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں
بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں الٰہی ترک الفت پر وہ کیونکر یاد آتے ہیں نہ چھیڑ اے ہم نشیں کیفیت صہبا کے افسانے شراب بے خودی کے مجھ کو ساغر یاد آتے ہیں رہا کرتے ہیں قید ہوش میں اے وائے ناکامی وہ دشت خود فراموشی کے چکر یاد آتے ہیں نہیں آتی تو یاد ان کی مہینوں تک نہیں آتی مگر جب یاد آتے ہیں تو اکثر یاد آتے ہیں حقیقت کھل گئی حسرتؔ ترے ترک محبت کی تجھے تو اب وہ پہلے سے بھی بڑھ کر یاد آتے ہیں
اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہے
اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہے اک ترے درد کو پہلو میں چھپا رکھا ہے دل سے ارباب وفا کا ہے بھلانا مشکل ہم نے یہ ان کے تغافل کو سنا رکھا ہے تم نے بال اپنے جو پھولوں میں بسا رکھے ہیں شوق کو اور بھی دیوانہ بنا رکھا ہے سخت بے درد ہے تاثیر محبت کہ انہیں بستر ناز پہ سوتے سے جگا رکھا ہے آہ وہ یاد کہ اس یاد کو ہو کر مجبور دل مایوس نے مدت سے بھلا رکھا ہے کیا تأمل ہے مرے قتل میں اے بازو یار ایک ہی وار میں سر تن سے جدا رکھا ہے حسن کو جور سے بیگانہ نہ سمجھو کہ اسے یہ سبق عشق نے پہلے ہی پڑھا رکھا ہے تیری نسبت سے ستم گر ترے مایوسوں نے داغ حرماں کو بھی سینے سے لگا رکھا ہے کہتے ہیں اہل جہاں درد محبت جس کو نام اسی کا دل مضطر نے دوا رکھا ہے نگہ یار سے پیکان قضا کا مشتاق دل مجبور نشانے پہ کھلا رکھا ہے اس کا انجام بھی کچھ سوچ لیا ہے حسرتؔ تو نے ربط ان سے جو اس درجہ بڑھا رکھا ہے