جاوید اختر

مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر

13 February 2026

15سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

گلشن شیرازی کا پیش کردہ کلام

تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا

تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا زندگی دھوپ تم گھنا سایا آج پھر دل نے اک تمنا کی آج پھر دل کو ہم نے سمجھایا تم چلے جاؤ گے تو سوچیں گے ہم نے کیا کھویا ہم نے کیا پایا ہم جسے گنگنا نہیں سکتے وقت نے ایسا گیت کیوں گایا

— جاوید اختر

سندیسے آتے ہیں ہمیں تڑپاتے ہیں

سندیسے آتے ہیں ہمیں تڑپاتے ہیں جو چٹھی آتی ہے، وہ پوچھے جاتی ہے کہ گھر کب آؤ گے لکھو کب آؤ گے کہ تم بن یہ گھر سونا سونا ہے کسی دل والی نے، کسی متوالی نے ہمیں خط لکھا ہے، یہ ہم سے پوچھا ہے کسی کی سانسوں نے، کسی کی دھڑکن نے کسی کی چوڑی نے، کسی کے کنگن نے کسی کے کجرے نے، کسی کے گجرے نے مہکتی صبحوں نے، مچلتی شاموں نے اکیلی راتوں میں، ادھوری باتوں نے ترستی بانہوں نے اور پوچھا ہے ترسی نگاہوں نے کہ گھر کب آؤ گے لکھو کب آؤ گے کہ تم بن یہ گھر سونا سونا ہے سندیسے آتے ہیں ۔۔۔ محبت والوں نے ، ہمارے یاروں نے ہمیں یہ لکھا ہے کہ ہم سے پوچھا ہے ہمارے گاوؤں نے، آم کی چھاوؤں نے پرانے پیپل نے، برستے بادل نے کھیت کھلیانوں نے، ہرے میدانوں نے بسنتی میلوں نے، دہکتے پھولوں نے چٹکتی کلیوں نے اور پوچھا ہے گاؤں کی گلیوں نے کہ گھر کب آؤ گے لکھو کب آؤ گے کہ تم بن یہ گھر سونا سونا ہے سندیسے آتے ہیں ۔۔۔ کبھی ایک ممتا کی، پیار کی گنگا کی جو چٹھی آتی ہے، ساتھ وہ لاتی ہے میرے دن بچپن کے، کھیل وہ آنگن کے وہ سایہ آنچل کا، وہ ٹیکہ کاجل کا وہ لوری راتوں میں، وہ نرمی ہاتھوں میں وہ چاہت آنکھوں میں، وہ چنتا باتوں میں بگڑنا اوپر سے، محبت اندر سے کرے وہ دیوی ماں یہی ہر خط میں پوچھے میری ماں کہ گھر کب آؤ گے لکھو کب آؤ گے کہ تم بن یہ گھر سونا سونا ہے اے گزرنے والی ہوا بتا میرے اتنا کام کرے گی کیا میرے گاؤں جا، میرے دوستوں کو سلام دے میرے گاؤں میں ہے جو وہ گلی جہاں رہتی ہے میری دلربا اسے میرے پیار کا جام دے وہیں تھوڑی دور ہے گھر میرا میرے گھر میں ہے میری بوڑھی ماں میرے ماں کے پیروں کو چھو کے تو اسے اس کے بیٹے کا نام دے اے گزرنے والی ہوا ذرا میرے دوستوں ، میری دلربا، میری ماں کو میرا پیام دے انہیں جا کے تو یہ پیام دے میں واپس آؤں گا پھر اپنے گاؤں میں اسی کی چھاؤں میں، کہ ماں کے آنچل سے گاؤں کی پیپل سے، کسی کے کاجل سے کیا جو وعدہ تھا وہ نبھاؤں گا میں ایک دن آؤں گا

— جاوید اختر