سپیکرز
طارق کا پیش کردہ کلام
میں اور میری تنہائی اکثر یہ باتیں کرتے ہیں۔۔۔
میں اور میری تنہائی اکثر یہ باتیں کرتے ہیں۔۔۔ تم ہوتِیں تو کیسا ہوتا؟ تم یہ کہتیں، تم وہ کہتیں۔۔ تم اِس بات پر حیران ہوتیں تم اُس بات پر کتنا ہنستیں تم ہوتیں تو ایسا ہوتا تم ہوتیں تو ویسا ہوتا میں اور میری تنہائ اکثر یہ باتیں کرتے ہیں۔۔۔۔ یہ رات ہے یا تمھاری زُلفیں کُھلی ہوئی ہیں؟ ہے چاندنی، یا تمھاری نظروں سے مری راتیں دُھلی ہوئی ہیں۔۔؟ یہ چاند ہے یا تمھارا کنگن؟ ستارے ہیں یا تمھارا آنچل؟؟ ھوّا کا جھونکا ہے یا تمھارے بدن کی خُوشبو؟؟ یہ پتِیوں کی ہے سرسراہٹ کہ تم نے چپکے سے کچھ کہا ہے؟ یہ سوچتا ہوں میں کب سے گم سُم جب کہ مجھ کو بھی یہ خبر ہے۔۔۔ کہ تم نہیں ہو، کہیں نہیں ہو!! مگر، یہ دل ہے کہ کہہ رہا ہے۔۔۔۔۔۔ تم یہیں ہو یہیں کہیں ہو!!! تُو بدن ہے میں ہوں چھایا تُو نہ ہو تو میں کہاں ہوں؟؟ مجھے پیار کرنے والے تُو جہاں ہے میں وہاں ہوں۔۔۔ ہمیں مِلنا ہی تھا ہمدم اِسی راہ پہ نِکل کے یہ کہاں آگئے ہم یونہی ساتھ ساتھ چلتے۔۔۔؟ میری سانس سانس مہکے کوئی بھینا بھینا چندن تیرا پیار چاندنی ہے میرا دل ہے جیسے آنگن۔۔ ہوئی اور بھی ملائم میری شام ڈھلتے ڈھلتے یہ کہاں آگئے ہم یونہی ساتھ ساتھ چلتے۔۔۔ مجبور یہ حالات اِدھر بھی ہیں، اُدھر بھی تنہائی کی اِک رات، اُدھر بھی ہے اِدھر بھی۔۔ کہنے کو تو بہت کچھ ہے مگر کس سے کہیں ہم؟ کب تک یوں خاموش رہیں اور سہیں ہم؟؟ جی چاہتا ہے دنیا کی ہر اک رسم اٹھا دیں دیوار جو ہم دونوں میں ہے، آج گِرا دیں کیوں دل میں سُلگتے رہیں لوگوں کو بتا دیں! ہاں ہم کو محبت ہے! محبت ہے، محبت!!! اور دل میں یہی بات، اُدھر بھی ہے اِدھر بھی۔۔۔۔۔!!
عجیب آدمی تھا وہ
عجیب آدمی تھا وہ محبتوں کا گیت تھا بغاوتوں کا راگ تھا کبھی وہ صرف پھول تھا کبھی وہ صرف آگ تھا عجیب آدمی تھا وہ وہ مفلسوں سے کہتا تھا کہ دن بدل بھی سکتے ہیں وہ جابروں سے کہتا تھا تمہارے سر پہ سونے کے جو تاج ہیں کبھی پگھل بھی سکتے ہیں وہ بندشوں سے کہتا تھا میں تم کو توڑ سکتا ہوں سہولتوں سے کہتا تھا میں تم کو چھوڑ سکتا ہوں ہواؤں سے وہ کہتا تھا میں تم کو موڑ سکتا ہوں وہ خواب سے یہ کہتا تھا کہ تجھ کو سچ کروں گا میں وہ آرزوؤں سے کہتا تھا میں تیرا ہم سفر ہوں تیرے ساتھ ہی چلوں گا میں تو چاہے جتنی دور بھی بنا لے اپنی منزلیں کبھی نہیں تھکوں گا میں وہ زندگی سے کہتا تھا کہ تجھ کو میں سجاؤں گا تو مجھ سے چاند مانگ لے میں چاند لے کے آؤں گا وہ آدمی سے کہتا تھا کہ آدمی سے پیار کر اجڑ رہی ہے یہ زمیں کچھ اس کا اب سنگھار کر عجیب آدمی تھا وہ وہ زندگی کے سارے غم تمام دکھ ہر اک ستم سے کہتا تھا میں تم سے جیت جاؤں گا کہ تم کو تو مٹا ہی دے گا ایک روز آدمی بھلا ہی دے گا یہ جہاں مری الگ ہے داستاں وہ آنکھیں جن میں خواب ہیں وہ دل ہے جن میں آرزو وہ بازو جن میں ہے سکت وہ ہونٹ جن پہ لفظ ہیں رہوں گا ان کے درمیاں کہ جب میں بیت جاؤں گا عجیب آدمی تھا وہ