جاوید اختر

مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر

13 February 2026

15سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

شہزاد کا پیش کردہ کلام

جینا مشکل ہے کہ آسان ذرا دیکھ تو لو

جینا مشکل ہے کہ آسان ذرا دیکھ تو لو لوگ لگتے ہیں پریشان ذرا دیکھ تو لو پھر مقرر کوئی سرگرم سر منبر ہے کس کے ہے قتل کا سامان ذرا دیکھ تو لو یہ نیا شہر تو ہے خوب بسایا تم نے کیوں پرانا ہوا ویران ذرا دیکھ تو لو ان چراغوں کے تلے ایسے اندھیرے کیوں ہے تم بھی رہ جاؤ گے حیران ذرا دیکھ تو لو تم یہ کہتے ہو کہ میں غیر ہوں پھر بھی شاید نکل آئے کوئی پہچان ذرا دیکھ تو لو یہ ستائش کی تمنا یہ صلے کی پرواہ کہاں لائے ہیں یہ ارمان ذرا دیکھ تو لو

— جاوید اختر

جینا مشکل ہے کہ آسان ذرا دیکھ تو لو

جینا مشکل ہے کہ آسان ذرا دیکھ تو لو لوگ لگتے ہیں پریشان ذرا دیکھ تو لو پھر مقرر کوئی سرگرم سر منبر ہے کس کے ہے قتل کا سامان ذرا دیکھ تو لو یہ نیا شہر تو ہے خوب بسایا تم نے کیوں پرانا ہوا ویران ذرا دیکھ تو لو ان چراغوں کے تلے ایسے اندھیرے کیوں ہے تم بھی رہ جاؤ گے حیران ذرا دیکھ تو لو تم یہ کہتے ہو کہ میں غیر ہوں پھر بھی شاید نکل آئے کوئی پہچان ذرا دیکھ تو لو یہ ستائش کی تمنا یہ صلے کی پرواہ کہاں لائے ہیں یہ ارمان ذرا دیکھ تو لو

— جاوید اختر

یہ مجھ سے پوچھتے ہیں چارہ گر کیوں

یہ مجھ سے پوچھتے ہیں چارہ گر کیوں کہ تو زندہ تو ہے اب تک مگر کیوں جو رستہ چھوڑ کے میں جا رہا ہوں اسی رستے پہ جاتی ہے نظر کیوں تھکن سے چور پاس آیا تھا اس کے گرا سوتے میں مجھ پر یہ شجر کیوں سنائیں گے کبھی فرصت میں تم کو کہ ہم برسوں رہے ہیں در بہ در کیوں یہاں بھی سب ہیں بیگانہ ہی مجھ سے کہوں میں کیا کہ یاد آیا ہے گھر کیوں میں خوش رہتا اگر سمجھا نہ ہوتا یہ دنیا ہے تو میں ہوں دیدہ ور کیوں

— جاوید اختر