سپیکرز
شہزاد کا پیش کردہ کلام
جینا مشکل ہے کہ آسان ذرا دیکھ تو لو
جینا مشکل ہے کہ آسان ذرا دیکھ تو لو لوگ لگتے ہیں پریشان ذرا دیکھ تو لو پھر مقرر کوئی سرگرم سر منبر ہے کس کے ہے قتل کا سامان ذرا دیکھ تو لو یہ نیا شہر تو ہے خوب بسایا تم نے کیوں پرانا ہوا ویران ذرا دیکھ تو لو ان چراغوں کے تلے ایسے اندھیرے کیوں ہے تم بھی رہ جاؤ گے حیران ذرا دیکھ تو لو تم یہ کہتے ہو کہ میں غیر ہوں پھر بھی شاید نکل آئے کوئی پہچان ذرا دیکھ تو لو یہ ستائش کی تمنا یہ صلے کی پرواہ کہاں لائے ہیں یہ ارمان ذرا دیکھ تو لو
جینا مشکل ہے کہ آسان ذرا دیکھ تو لو
جینا مشکل ہے کہ آسان ذرا دیکھ تو لو لوگ لگتے ہیں پریشان ذرا دیکھ تو لو پھر مقرر کوئی سرگرم سر منبر ہے کس کے ہے قتل کا سامان ذرا دیکھ تو لو یہ نیا شہر تو ہے خوب بسایا تم نے کیوں پرانا ہوا ویران ذرا دیکھ تو لو ان چراغوں کے تلے ایسے اندھیرے کیوں ہے تم بھی رہ جاؤ گے حیران ذرا دیکھ تو لو تم یہ کہتے ہو کہ میں غیر ہوں پھر بھی شاید نکل آئے کوئی پہچان ذرا دیکھ تو لو یہ ستائش کی تمنا یہ صلے کی پرواہ کہاں لائے ہیں یہ ارمان ذرا دیکھ تو لو
یہ مجھ سے پوچھتے ہیں چارہ گر کیوں
یہ مجھ سے پوچھتے ہیں چارہ گر کیوں کہ تو زندہ تو ہے اب تک مگر کیوں جو رستہ چھوڑ کے میں جا رہا ہوں اسی رستے پہ جاتی ہے نظر کیوں تھکن سے چور پاس آیا تھا اس کے گرا سوتے میں مجھ پر یہ شجر کیوں سنائیں گے کبھی فرصت میں تم کو کہ ہم برسوں رہے ہیں در بہ در کیوں یہاں بھی سب ہیں بیگانہ ہی مجھ سے کہوں میں کیا کہ یاد آیا ہے گھر کیوں میں خوش رہتا اگر سمجھا نہ ہوتا یہ دنیا ہے تو میں ہوں دیدہ ور کیوں