جاوید اختر

مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر

13 February 2026

15سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

وہ ڈھل رہا ہے تو یہ بھی رنگت بدل رہی ہے

وہ ڈھل رہا ہے تو یہ بھی رنگت بدل رہی ہے زمین سورج کی انگلیوں سے پھسل رہی ہے جو مجھ کو زندہ جلا رہے ہیں وہ بے خبر ہیں کہ میری زنجیر دھیرے دھیرے پگھل رہی ہے میں قتل تو ہو گیا تمہاری گلی میں لیکن مرے لہو سے تمہاری دیوار گل رہی ہے نہ جلنے پاتے تھے جس کے چولھے بھی ہر سویرے سنا ہے کل رات سے وہ بستی بھی جل رہی ہے میں جانتا ہوں کہ خامشی میں ہی مصلحت ہے مگر یہی مصلحت مرے دل کو کھل رہی ہے کبھی تو انسان زندگی کی کرے گا عزت یہ ایک امید آج بھی دل میں پل رہی ہے

— جاوید اختر