سپیکرز
نور مائیر
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
امل خان
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آبدار خان
افراسیاب
ایم سعید
ایمان
راجا اکرام قمر
زاہدحسین
سجاد رضا
سید جینٹلمین
شہزاد
طارق
کریسنٹ
گلشن شیرازی
نایاب
ندیم بخاری
یادرفتگان
ایمان کا پیش کردہ کلام
وہ ڈھل رہا ہے تو یہ بھی رنگت بدل رہی ہے
وہ ڈھل رہا ہے تو یہ بھی رنگت بدل رہی ہے زمین سورج کی انگلیوں سے پھسل رہی ہے جو مجھ کو زندہ جلا رہے ہیں وہ بے خبر ہیں کہ میری زنجیر دھیرے دھیرے پگھل رہی ہے میں قتل تو ہو گیا تمہاری گلی میں لیکن مرے لہو سے تمہاری دیوار گل رہی ہے نہ جلنے پاتے تھے جس کے چولھے بھی ہر سویرے سنا ہے کل رات سے وہ بستی بھی جل رہی ہے میں جانتا ہوں کہ خامشی میں ہی مصلحت ہے مگر یہی مصلحت مرے دل کو کھل رہی ہے کبھی تو انسان زندگی کی کرے گا عزت یہ ایک امید آج بھی دل میں پل رہی ہے