جاوید اختر

مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر

13 February 2026

15سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

زاہدحسین کا پیش کردہ کلام

کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں کہ مجھ کو تیری تلاش کیوں ہے

کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں کہ مجھ کو تیری تلاش کیوں ہے کہ جب ہیں سارے ہی تار ٹوٹے تو ساز میں ارتعاش کیوں ہے کوئی اگر پوچھتا یہ ہم سے بتاتے ہم گر تو کیا بتاتے بھلا ہو سب کا کہ یہ نہ پوچھا کہ دل پہ ایسی خراش کیوں ہے اٹھا کے ہاتھوں سے تم نے چھوڑا چلو نہ دانستہ تم نے توڑا اب الٹا ہم سے تو یہ نہ پوچھو کہ شیشہ یہ پاش پاش کیوں ہے عجب دو راہے پہ زندگی ہے کبھی ہوس دل کو کھینچتی ہے کبھی یہ شرمندگی ہے دل میں کہ اتنی فکر معاش کیوں ہے نہ فکر کوئی نہ جستجو ہے نہ خواب کوئی نہ آرزو ہے یہ شخص تو کب کا مر چکا ہے تو بے کفن پھر یہ لاش کیوں ہے

— جاوید اختر