سپیکرز
نور مائیر
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
امل خان
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آبدار خان
افراسیاب
ایم سعید
ایمان
راجا اکرام قمر
زاہدحسین
سجاد رضا
سید جینٹلمین
شہزاد
طارق
کریسنٹ
گلشن شیرازی
نایاب
ندیم بخاری
یادرفتگان
زاہدحسین کا پیش کردہ کلام
کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں کہ مجھ کو تیری تلاش کیوں ہے
کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں کہ مجھ کو تیری تلاش کیوں ہے کہ جب ہیں سارے ہی تار ٹوٹے تو ساز میں ارتعاش کیوں ہے کوئی اگر پوچھتا یہ ہم سے بتاتے ہم گر تو کیا بتاتے بھلا ہو سب کا کہ یہ نہ پوچھا کہ دل پہ ایسی خراش کیوں ہے اٹھا کے ہاتھوں سے تم نے چھوڑا چلو نہ دانستہ تم نے توڑا اب الٹا ہم سے تو یہ نہ پوچھو کہ شیشہ یہ پاش پاش کیوں ہے عجب دو راہے پہ زندگی ہے کبھی ہوس دل کو کھینچتی ہے کبھی یہ شرمندگی ہے دل میں کہ اتنی فکر معاش کیوں ہے نہ فکر کوئی نہ جستجو ہے نہ خواب کوئی نہ آرزو ہے یہ شخص تو کب کا مر چکا ہے تو بے کفن پھر یہ لاش کیوں ہے