جاوید اختر

مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر

13 February 2026

15سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

آبدار خان کا پیش کردہ کلام

مثال اس کی کہاں ہے کوئی زمانے میں

مثال اس کی کہاں ہے کوئی زمانے میں کہ سارے کھونے کے غم پائے ہم نے پانے میں وہ شکل پگھلی تو ہر شے میں ڈھل گئی جیسے عجیب بات ہوئی ہے اسے بھلانے میں جو منتظر نہ ملا وہ تو ہم ہیں شرمندہ کہ ہم نے دیر لگا دی پلٹ کے آنے میں لطیف تھا وہ تخیل سے خواب سے نازک گنوا دیا اسے ہم نے ہی آزمانے میں سمجھ لیا تھا کبھی اک سراب کو دریا پر اک سکون تھا ہم کو فریب کھانے میں جھکا درخت ہوا سے تو آندھیوں نے کہا زیادہ فرق نہیں جھکنے ٹوٹ جانے میں

— جاوید اختر

دست بردار اگر آپ غضب سے ہو جائیں

دست بردار اگر آپ غضب سے ہو جائیں ہر ستم بھول کے ہم آپ کے اب سے ہو جائیں چودھویں شب ہے تو کھڑکی کے گرا دو پردے کون جانے کہ وہ ناراض ہی شب سے ہو جائیں ایک خوشبو کی طرح پھیلتے ہیں محفل میں ایسے الفاظ ادا جو ترے لب سے ہو جائیں نہ کوئی عشق ہے باقی نہ کوئی پرچم ہے لوگ دیوانے بھلا کس کے سبب سے ہو جائیں باندھ لو ہاتھ کہ پھیلیں نہ کسی کے آگے سی لو یہ لب کہ کہیں وہ نہ طلب سے ہو جائیں بات تو چھیڑ مرے دل کوئی قصہ تو سنا کیا عجب ان کے بھی جذبات عجب سے ہو جائیں

— جاوید اختر