سپیکرز
افتخار احمد کا پیش کردہ کلام
درد اپناتا ہے پرائے کون
درد اپناتا ہے پرائے کون کون سنتا ہے اور سنائے کون کون دہرائے پھر وہی باتیں غم ابھی سویا ہے جگائے کون اب سکوں ہے تو بھولنے میں ہے لیکن اس شخص کو بھلائے کون وہ جو اپنے ہیں کیا وہ اپنے ہیں کون دکھ جھیلے آزمائے کون آج پھر دل ہے کچھ اداس اداس دیکھیے آج یاد آئے کون
دل میں مہک رہے ہیں کسی آرزو کے پھول
دل میں مہک رہے ہیں کسی آرزو کے پھول پلکوں پہ کھلنے والے ہیں شاید لہو کے پھول اب تک ہے کوئی بات مجھے یاد حرف حرف اب تک میں چن رہا ہوں کسی گفتگو کے پھول کلیاں چٹک رہی تھیں کہ آواز تھی کوئی اب تک سماعتوں میں ہیں اک خوش گلو کے پھول میرے لہو کا رنگ ہے ہر نوک خار پر صحرا میں ہر طرف ہیں مری جستجو کے پھول دیوانے کل جو لوگ تھے پھولوں کے عشق میں اب ان کے دامنوں میں بھرے ہیں رفو کے پھول
دل کا ہر درد کھو گیا جیسے
دل کا ہر درد کھو گیا جیسے میں تو پتھر کا ہو گیا جیسے داغ باقی نہیں کہ نقش کہوں کوئی دیوار دھو گیا جیسے جاگتا ذہن غم کی دھوپ میں تھا چھاؤں پاتے ہی سو گیا جیسے دیکھنے والا تھا کل اس کا تپاک پھر سے وہ غیر ہو گیا جیسے کچھ بچھڑنے کے بھی طریقے ہیں خیر جانے دو جو گیا جیسے
جدھر جاتے ہیں سب جانا ادھر اچھا نہیں لگتا
جدھر جاتے ہیں سب جانا ادھر اچھا نہیں لگتا مجھے پامال رستوں کا سفر اچھا نہیں لگتا غلط باتوں کو خاموشی سے سننا حامی بھر لینا بہت ہیں فائدے اس میں مگر اچھا نہیں لگتا مجھے دشمن سے بھی خودداری کی امید رہتی ہے کسی کا بھی ہو سر قدموں میں سر اچھا نہیں لگتا بلندی پر انہیں مٹی کی خوشبو تک نہیں آتی یہ وہ شاخیں ہیں جن کو اب شجر اچھا نہیں لگتا یہ کیوں باقی رہے آتش زنو یہ بھی جلا ڈالو کہ سب بے گھر ہوں اور میرا ہو گھر اچھا نہیں لگتا