جاوید اختر

مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر

13 February 2026

15سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام

بہانہ ڈھونڈتے رہتے ہیں کوئی رونے کا

بہانہ ڈھونڈتے رہتے ہیں کوئی رونے کا ہمیں یہ شوق ہے کیا آستیں بھگونے کا اگر پلک پہ ہے موتی تو یہ نہیں کافی ہنر بھی چاہئے الفاظ میں پرونے کا جو فصل خواب کی تیار ہے تو یہ جانو کہ وقت آ گیا پھر درد کوئی بونے کا یہ زندگی بھی عجب کاروبار ہے کہ مجھے خوشی ہے پانے کی کوئی نہ رنج کھونے کا ہے پاش پاش مگر پھر بھی مسکراتا ہے وہ چہرہ جیسے ہو ٹوٹے ہوئے کھلونے کا

— جاوید اختر

خواب کے گاؤں میں پلے ہیں ہم

خواب کے گاؤں میں پلے ہیں ہم پانی چھلنی میں لے چلے ہیں ہم چھاچھ پھونکیں کہ اپنے بچپن میں دودھ سے کس طرح جلے ہیں ہم خود ہیں اپنے سفر کی دشواری اپنے پیروں کے آبلے ہیں ہم تو تو مت کہہ ہمیں برا دنیا تو نے ڈھالا ہے اور ڈھلے ہیں ہم کیوں ہیں کب تک ہیں کس کی خاطر ہیں بڑے سنجیدہ مسئلے ہیں ہم

— جاوید اختر