سپیکرز
نور مائیر
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
امل خان
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آبدار خان
افراسیاب
ایم سعید
ایمان
راجا اکرام قمر
زاہدحسین
سجاد رضا
سید جینٹلمین
شہزاد
طارق
کریسنٹ
گلشن شیرازی
نایاب
ندیم بخاری
یادرفتگان
ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام
بہانہ ڈھونڈتے رہتے ہیں کوئی رونے کا
بہانہ ڈھونڈتے رہتے ہیں کوئی رونے کا ہمیں یہ شوق ہے کیا آستیں بھگونے کا اگر پلک پہ ہے موتی تو یہ نہیں کافی ہنر بھی چاہئے الفاظ میں پرونے کا جو فصل خواب کی تیار ہے تو یہ جانو کہ وقت آ گیا پھر درد کوئی بونے کا یہ زندگی بھی عجب کاروبار ہے کہ مجھے خوشی ہے پانے کی کوئی نہ رنج کھونے کا ہے پاش پاش مگر پھر بھی مسکراتا ہے وہ چہرہ جیسے ہو ٹوٹے ہوئے کھلونے کا
خواب کے گاؤں میں پلے ہیں ہم
خواب کے گاؤں میں پلے ہیں ہم پانی چھلنی میں لے چلے ہیں ہم چھاچھ پھونکیں کہ اپنے بچپن میں دودھ سے کس طرح جلے ہیں ہم خود ہیں اپنے سفر کی دشواری اپنے پیروں کے آبلے ہیں ہم تو تو مت کہہ ہمیں برا دنیا تو نے ڈھالا ہے اور ڈھلے ہیں ہم کیوں ہیں کب تک ہیں کس کی خاطر ہیں بڑے سنجیدہ مسئلے ہیں ہم