سپیکرز
نور مائیر
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
امل خان
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آبدار خان
افراسیاب
ایم سعید
ایمان
راجا اکرام قمر
زاہدحسین
سجاد رضا
سید جینٹلمین
شہزاد
طارق
کریسنٹ
گلشن شیرازی
نایاب
ندیم بخاری
یادرفتگان
راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام
درد کچھ دن تو میہماں ٹھہرے
درد کچھ دن تو میہماں ٹھہرے ہم بضد ہیں کہ میزباں ٹھہرے صرف تنہائی صرف ویرانی یہ نظر جب اٹھے جہاں ٹھہرے کون سے زخم پر پڑاؤ کیا درد کے قافلے کہاں ٹھہرے کیسے دل میں خوشی بسا لوں میں کیسے مٹھی میں یہ دھواں ٹھہرے تھی کہیں مصلحت کہیں جرأت ہم کہیں ان کے درمیاں ٹھہرے
نہ خوشی دے تو کچھ دلاسہ دے
نہ خوشی دے تو کچھ دلاسہ دے دوست جیسے ہو مجھ کو بہلا دے آگہی سے ملی ہے تنہائی آ مری جان مجھ کو دھوکہ دے اب تو تکمیل کی بھی شرط نہیں زندگی اب تو اک تمنا دے اے سفر اتنا رائیگاں تو نہ جا نہ ہو منزل کہیں تو پہنچا دے ترک کرنا ہے گر تعلق تو خود نہ جا تو کسی سے کہلا دے