سپیکرز
نور مائیر
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
امل خان
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آبدار خان
افراسیاب
ایم سعید
ایمان
راجا اکرام قمر
زاہدحسین
سجاد رضا
سید جینٹلمین
شہزاد
طارق
کریسنٹ
گلشن شیرازی
نایاب
ندیم بخاری
یادرفتگان
ایم سعید کا پیش کردہ کلام
آپ سے مل کے ہم کچھ بدل سے گئے شعر پڑھنے لگے گنگنانے لگے
آپ سے مل کے ہم کچھ بدل سے گئے شعر پڑھنے لگے گنگنانے لگے پہلے مشہور تھی اپنی سنجیدگی اب تو جب دیکھیے مسکرانے لگے ہم کو لوگوں سے ملنے کا کب شوق تھا محفل آرائی کا کب ہمیں ذوق تھا آپ کے واسطے ہم نے یہ بھی کیا ملنے جلنے لگے آنے جانے لگے ہم نے جب آپ کی دیکھیں دلچسپیاں آگئیں چند ہم میں بھی تبدیلیاں اک مصور سے بھی ہو گئی دوستی اور غزلیں بھی سننے سنانے لگے آپ کے بارے میں پوچھ بیٹھا کوئی کیا کہیں ہم سے کیا بد حواسی ہوئی کہنے والی جو تھی بات ہو نہ سکی بات جو تھی چھپانی بتانے لگے عشق بے گھر کرے عشق بے در کرے عشق کا سچ ہے کوئی ٹھکانا نہیں ہم جو کل تک ٹھکانے کے تھے آدمی آپ سے مل کے کیسے ٹھکانے لگے