جاوید اختر

مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر

13 February 2026

15سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

ایم سعید کا پیش کردہ کلام

آپ سے مل کے ہم کچھ بدل سے گئے شعر پڑھنے لگے گنگنانے لگے

آپ سے مل کے ہم کچھ بدل سے گئے شعر پڑھنے لگے گنگنانے لگے پہلے مشہور تھی اپنی سنجیدگی اب تو جب دیکھیے مسکرانے لگے ہم کو لوگوں سے ملنے کا کب شوق تھا محفل آرائی کا کب ہمیں ذوق تھا آپ کے واسطے ہم نے یہ بھی کیا ملنے جلنے لگے آنے جانے لگے ہم نے جب آپ کی دیکھیں دلچسپیاں آگئیں چند ہم میں بھی تبدیلیاں اک مصور سے بھی ہو گئی دوستی اور غزلیں بھی سننے سنانے لگے آپ کے بارے میں پوچھ بیٹھا کوئی کیا کہیں ہم سے کیا بد حواسی ہوئی کہنے والی جو تھی بات ہو نہ سکی بات جو تھی چھپانی بتانے لگے عشق بے گھر کرے عشق بے در کرے عشق کا سچ ہے کوئی ٹھکانا نہیں ہم جو کل تک ٹھکانے کے تھے آدمی آپ سے مل کے کیسے ٹھکانے لگے

— جاوید اختر