جاوید اختر

مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر

13 February 2026

15سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

یہ تسلی ہے کہ ہیں ناشاد سب

یہ تسلی ہے کہ ہیں ناشاد سب میں اکیلا ہی نہیں برباد سب سب کی خاطر ہیں یہاں سب اجنبی اور کہنے کو ہیں گھر آباد سب بھول کے سب رنجشیں سب ایک ہیں میں بتاؤں سب کو ہوگا یاد سب سب کو دعوائے وفا سب کو یقیں اس اداکاری میں ہیں استاد سب شہر کے حاکم کا یہ فرمان ہے قید میں کہلائیں گے آزاد سب چار لفظوں میں کہو جو بھی کہو اس کو کب فرصت سنے فریاد سب تلخیاں کیسے نہ ہوں اشعار میں ہم پہ جو گزری ہمیں ہے یاد سب

— جاوید اختر