سپیکرز
نور مائیر
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
امل خان
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آبدار خان
افراسیاب
ایم سعید
ایمان
راجا اکرام قمر
زاہدحسین
سجاد رضا
سید جینٹلمین
شہزاد
طارق
کریسنٹ
گلشن شیرازی
نایاب
ندیم بخاری
یادرفتگان
نور مائیر کا پیش کردہ کلام
یہ تسلی ہے کہ ہیں ناشاد سب
یہ تسلی ہے کہ ہیں ناشاد سب میں اکیلا ہی نہیں برباد سب سب کی خاطر ہیں یہاں سب اجنبی اور کہنے کو ہیں گھر آباد سب بھول کے سب رنجشیں سب ایک ہیں میں بتاؤں سب کو ہوگا یاد سب سب کو دعوائے وفا سب کو یقیں اس اداکاری میں ہیں استاد سب شہر کے حاکم کا یہ فرمان ہے قید میں کہلائیں گے آزاد سب چار لفظوں میں کہو جو بھی کہو اس کو کب فرصت سنے فریاد سب تلخیاں کیسے نہ ہوں اشعار میں ہم پہ جو گزری ہمیں ہے یاد سب