سپیکرز
نور مائیر
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
امل خان
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آبدار خان
افراسیاب
ایم سعید
ایمان
راجا اکرام قمر
زاہدحسین
سجاد رضا
سید جینٹلمین
شہزاد
طارق
کریسنٹ
گلشن شیرازی
نایاب
ندیم بخاری
یادرفتگان
افراسیاب کا پیش کردہ کلام
یہ دنیا تم کو راس آئے تو کہنا
یہ دنیا تم کو راس آئے تو کہنا نہ سر پتھر سے ٹکرائے تو کہنا یہ گل کاغذ ہیں یہ زیور ہیں پیتل سمجھ میں جب یہ آ جائے تو کہنا بہت خوش ہو کہ اس نے کچھ کہا ہے نہ کہہ کر وہ مکر جائے تو کہنا بدل جاؤ گے تم غم سن کے میرے کبھی دل غم سے گھبرائے تو کہنا دھواں جو کچھ گھروں سے اٹھ رہا ہے نہ پورے شہر پر چھائے تو کہنا
شکر ہے خیریت سے ہوں صاحب
شکر ہے خیریت سے ہوں صاحب آپ سے اور کیا کہوں صاحب اب سمجھنے لگا ہوں سود و زیاں اب کہاں مجھ میں وہ جنوں صاحب ذلت زیست یا شکست ضمیر یہ سہوں میں کہ وہ سہوں صاحب ہم تمہیں یاد کرتے رو لیتے دو گھڑی ملتا جو سکوں صاحب شام بھی ڈھل رہی ہے گھر بھی ہے دور کتنی دیر اور میں رکوں صاحب اب جھکوں گا تو ٹوٹ جاؤں گا کیسے اب اور میں جھکوں صاحب کچھ روایات کی گواہی پر کتنا جرمانہ میں بھروں صاحب