جاوید اختر

مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر

13 February 2026

15سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام

مجھ کو یقیں ہے سچ کہتی تھیں جو بھی امی کہتی تھیں

مجھ کو یقیں ہے سچ کہتی تھیں جو بھی امی کہتی تھیں جب میرے بچپن کے دن تھے چاند میں پریاں رہتی تھیں ایک یہ دن جب اپنوں نے بھی ہم سے ناطہ توڑ لیا ایک وہ دن جب پیڑ کی شاخیں بوجھ ہمارا سہتی تھیں ایک یہ دن جب ساری سڑکیں روٹھی روٹھی لگتی ہیں ایک وہ دن جب آؤ کھیلیں ساری گلیاں کہتی تھیں ایک یہ دن جب جاگی راتیں دیواروں کو تکتی ہیں ایک وہ دن جب شاموں کی بھی پلکیں بوجھل رہتی تھیں ایک یہ دن جب ذہن میں ساری عیاری کی باتیں ہیں ایک وہ دن جب دل میں بھولی بھالی باتیں رہتی تھیں ایک یہ دن جب لاکھوں غم اور کال پڑا ہے آنسو کا ایک وہ دن جب ایک ذرا سی بات پہ ندیاں بہتی تھیں ایک یہ گھر جس گھر میں میرا ساز و ساماں رہتا ہے ایک وہ گھر جس گھر میں میری بوڑھی نانی رہتی تھیں

— جاوید اختر

کبھی یوں بھی تو ہو

کبھی یوں بھی تو ہو دریا کا ساحل ہو پورے چاند کی رات ہو اور تم آؤ کبھی یوں بھی تو ہو پریوں کی محفل ہو کوئی تمہاری بات ہو اور تم آؤ کبھی یوں بھی تو ہو یہ نرم ملائم ٹھنڈی ہوائیں جب گھر سے تمہارے گزریں تمہاری خوشبو چرائیں میرے گھر لے آئیں کبھی یوں بھی تو ہو سونی ہر منزل ہو کوئی نہ میرے ساتھ ہو اور تم آؤ کبھی یوں بھی تو ہو یہ بادل ایسا ٹوٹ کے برسے میرے دل کی طرح ملنے کو تمہارا دل بھی ترسے تم نکلو گھر سے کبھی یوں بھی تو ہو تنہائی ہو ،دل ہو بوندیں ہوں برسات ہو اور تم آؤ کبھی تو یوں بھی ہو

— جاوید اختر