سپیکرز
ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام
مجھ کو یقیں ہے سچ کہتی تھیں جو بھی امی کہتی تھیں
مجھ کو یقیں ہے سچ کہتی تھیں جو بھی امی کہتی تھیں جب میرے بچپن کے دن تھے چاند میں پریاں رہتی تھیں ایک یہ دن جب اپنوں نے بھی ہم سے ناطہ توڑ لیا ایک وہ دن جب پیڑ کی شاخیں بوجھ ہمارا سہتی تھیں ایک یہ دن جب ساری سڑکیں روٹھی روٹھی لگتی ہیں ایک وہ دن جب آؤ کھیلیں ساری گلیاں کہتی تھیں ایک یہ دن جب جاگی راتیں دیواروں کو تکتی ہیں ایک وہ دن جب شاموں کی بھی پلکیں بوجھل رہتی تھیں ایک یہ دن جب ذہن میں ساری عیاری کی باتیں ہیں ایک وہ دن جب دل میں بھولی بھالی باتیں رہتی تھیں ایک یہ دن جب لاکھوں غم اور کال پڑا ہے آنسو کا ایک وہ دن جب ایک ذرا سی بات پہ ندیاں بہتی تھیں ایک یہ گھر جس گھر میں میرا ساز و ساماں رہتا ہے ایک وہ گھر جس گھر میں میری بوڑھی نانی رہتی تھیں
کبھی یوں بھی تو ہو
کبھی یوں بھی تو ہو دریا کا ساحل ہو پورے چاند کی رات ہو اور تم آؤ کبھی یوں بھی تو ہو پریوں کی محفل ہو کوئی تمہاری بات ہو اور تم آؤ کبھی یوں بھی تو ہو یہ نرم ملائم ٹھنڈی ہوائیں جب گھر سے تمہارے گزریں تمہاری خوشبو چرائیں میرے گھر لے آئیں کبھی یوں بھی تو ہو سونی ہر منزل ہو کوئی نہ میرے ساتھ ہو اور تم آؤ کبھی یوں بھی تو ہو یہ بادل ایسا ٹوٹ کے برسے میرے دل کی طرح ملنے کو تمہارا دل بھی ترسے تم نکلو گھر سے کبھی یوں بھی تو ہو تنہائی ہو ،دل ہو بوندیں ہوں برسات ہو اور تم آؤ کبھی تو یوں بھی ہو