امیر مینائی

ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی

05 January 2026

16سپیکرز
277لسنرز

سپیکرز

فائیٹر کا پیش کردہ کلام

میں رو کے آہ کروں گا جہاں رہے نہ رہے

میں رو کے آہ کروں گا جہاں رہے نہ رہے زمیں رہے نہ رہے آسماں رہے نہ رہے رہے وہ جان جہاں یہ جہاں رہے نہ رہے مکیں کی خیر ہو یا رب مکاں رہے نہ رہے ابھی مزار پر احباب فاتحہ پڑھ لیں پھر اس قدر بھی ہمارا نشاں رہے نہ رہے خدا کے واسطے کلمہ بتوں کا پڑھ زاہد پھر اختیار میں غافل زباں رہے نہ رہے خزاں تو خیر سے گزری چمن میں بلبل کی بہار آئی ہے اب آشیاں رہے نہ رہے چلا تو ہوں پئے اظہار درد دل دیکھوں حضور یار مجال بیاں رہے نہ رہے امیرؔ جمع ہیں احباب درد دل کہہ لے پھر التفات دل دوستاں رہے نہ رہے

— امیر مینائی

بات کرنے میں تو جاتی ہے ملاقات کی رات

بات کرنے میں تو جاتی ہے ملاقات کی رات کیا بری بات ہے رہ جاؤ یہیں رات کی رات ذرے افشاں کے نہیں کرمک شب تاب سے کم ہے وہ زلف عرق آلود کہ برسات کی رات زاہد اس زلف میں پھنس جائے تو اتنا پوچھوں کہیے کس طرح کٹی قبلۂ حاجات کی رات شام سے صبح تلک چلتے ہیں جام مے عیش خوب ہوتی ہے بسر اہل خرابات کی رات وصل چاہا شب معراج تو یہ عذر کیا ہے یہ اللہ و پیمبر کی ملاقات کی رات ہم مسافر ہیں یہ دنیا ہے حقیقت میں سرا ہے توقف ہمیں اس جا تو فقط رات کی رات چل کے اب سو رہو باتیں نہ بناؤ صاحب وصل کی شب ہے نہیں حرف حکایات کی رات لیلۃ القدر ہے وصلت کی دعا مانگ امیرؔ اس سے بہتر ہے کہاں کوئی مناجات کی رات

— امیر مینائی