سپیکرز
فائیٹر کا پیش کردہ کلام
میں رو کے آہ کروں گا جہاں رہے نہ رہے
میں رو کے آہ کروں گا جہاں رہے نہ رہے زمیں رہے نہ رہے آسماں رہے نہ رہے رہے وہ جان جہاں یہ جہاں رہے نہ رہے مکیں کی خیر ہو یا رب مکاں رہے نہ رہے ابھی مزار پر احباب فاتحہ پڑھ لیں پھر اس قدر بھی ہمارا نشاں رہے نہ رہے خدا کے واسطے کلمہ بتوں کا پڑھ زاہد پھر اختیار میں غافل زباں رہے نہ رہے خزاں تو خیر سے گزری چمن میں بلبل کی بہار آئی ہے اب آشیاں رہے نہ رہے چلا تو ہوں پئے اظہار درد دل دیکھوں حضور یار مجال بیاں رہے نہ رہے امیرؔ جمع ہیں احباب درد دل کہہ لے پھر التفات دل دوستاں رہے نہ رہے
بات کرنے میں تو جاتی ہے ملاقات کی رات
بات کرنے میں تو جاتی ہے ملاقات کی رات کیا بری بات ہے رہ جاؤ یہیں رات کی رات ذرے افشاں کے نہیں کرمک شب تاب سے کم ہے وہ زلف عرق آلود کہ برسات کی رات زاہد اس زلف میں پھنس جائے تو اتنا پوچھوں کہیے کس طرح کٹی قبلۂ حاجات کی رات شام سے صبح تلک چلتے ہیں جام مے عیش خوب ہوتی ہے بسر اہل خرابات کی رات وصل چاہا شب معراج تو یہ عذر کیا ہے یہ اللہ و پیمبر کی ملاقات کی رات ہم مسافر ہیں یہ دنیا ہے حقیقت میں سرا ہے توقف ہمیں اس جا تو فقط رات کی رات چل کے اب سو رہو باتیں نہ بناؤ صاحب وصل کی شب ہے نہیں حرف حکایات کی رات لیلۃ القدر ہے وصلت کی دعا مانگ امیرؔ اس سے بہتر ہے کہاں کوئی مناجات کی رات