امیر مینائی

ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی

05 January 2026

16سپیکرز
277لسنرز

سپیکرز

حسین بلوچ کا پیش کردہ کلام

ہم سر زلف قد حور شمائل ٹھہرا

ہم سر زلف قد حور شمائل ٹھہرا لام کا خوب الف مد مقابل ٹھہرا دیدۂ تر سے جو دامن میں گرا دل ٹھہرا بہتے بہتے یہ سفینہ لب ساحل ٹھہرا کی نظر روئے کتابی پہ تو کچھ دل ٹھہرا مکتب شوق بھی قرآن کی منزل ٹھہرا نگہت گل سے پریشان ہوا اس کا دماغ خندۂ گل نہ ہوا شور عنادل ٹھہرا نجد سے قیس جو آیا مرے زنداں کی طرف دیر تک گوش بر آواز سلاسل ٹھہرا حسن جس طفل کا چمکا وہ ہوا باعث قتل جس نے تلوار سنبھالی مرا قاتل ٹھہرا خط جو نکلا رخ جاناں پہ ملا بوسۂ خال یہی دانہ فقط اس کشت کا حاصل ٹھہرا علم اک نقطہ جو مشہور تھا اے جوش جنوں غور سے کی جو نظر نقطۂ باطل ٹھہرا دور جب تک تھے تڑپتا تھا میں کیسا کیسا پاس آ کر وہ جو ٹھہرے تو مرا دل ٹھہرا کثرت داغ سے گلدستہ بنا دل تو کیا زینت باغ نہ آرائش محفل ٹھہرا دوڑتا قیس بھی آتا ہے نہایت ہی قریب اک ذرا ناقے کو اے صاحب محمل ٹھہرا دم جو بیتاب تھا مدت سے مرے سینے میں تیغ قاتل کے تلے کچھ دم بسمل ٹھہرا ہم بڑی دور سے آئے ہیں تمہارا ہے یہ حال گھر سے دروازے تک آنا کئی منزل ٹھہرا اب تک آتی ہے صدا تربت لیلیٰ سے امیرؔ ساربان اب تو خدا کے لیے محمل ٹھہرا

— امیر مینائی