سپیکرز
ایم سعید کا پیش کردہ کلام
اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں
اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں ڈھونڈنے اس کو چلا ہوں جسے پا بھی نہ سکوں ڈال کے خاک میرے خون پہ قاتل نے کہا کچھ یہ مہندی نہیں میری کہ چھپا بھی نہ سکوں ضبط کمبخت نے یاں آ کے گلا گھونٹا ہے کہ اسے حال سناؤں تو سنا بھی نہ سکوں نقش پا دیکھ تو لوں لاکھ کروں گا سجدے سر مرا عرش نہیں ہے جو جھکا بھی نہ سکوں بے وفا لکھتے ہیں وہ اپنے قلم سے مجھ کو یہ وہ قسمت کا لکھا ہے جو مٹا بھی نہ سکوں اس طرح سوئے ہیں سر رکھ کے مرے زانو پر اپنی سوئی ہوئی قسمت کو جگا بھی نہ سکوں
دل کو طرز نگۂ یار جتاتے آئے
دل کو طرز نگۂ یار جتاتے آئے تیر بھی آئے تو بے پر کی اڑاتے آئے بادشاہوں کا ہے دربار در پیر مغاں سیکڑوں جاتے گئے سیکڑوں آتے آئے چھپ کے بھی آئے مرے گھر تو وو دربانوں کو اپنی پازیب کی جھنکار سناتے آئے روز محشر جو بلائے گئے دیوانۂ زلف بیڑیاں پہنے ہوئے شور مچاتے آئے کیا کہیں گے کوئی محشر میں جو پوچھے گا امیرؔ کیوں نہ بگڑی ہوئی باتوں کو بناتے آئے