امیر مینائی

ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی

05 January 2026

16سپیکرز
277لسنرز

سپیکرز

ایم سعید کا پیش کردہ کلام

اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں

اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں ڈھونڈنے اس کو چلا ہوں جسے پا بھی نہ سکوں ڈال کے خاک میرے خون پہ قاتل نے کہا کچھ یہ مہندی نہیں میری کہ چھپا بھی نہ سکوں ضبط کمبخت نے یاں آ کے گلا گھونٹا ہے کہ اسے حال سناؤں تو سنا بھی نہ سکوں نقش پا دیکھ تو لوں لاکھ کروں گا سجدے سر مرا عرش نہیں ہے جو جھکا بھی نہ سکوں بے وفا لکھتے ہیں وہ اپنے قلم سے مجھ کو یہ وہ قسمت کا لکھا ہے جو مٹا بھی نہ سکوں اس طرح سوئے ہیں سر رکھ کے مرے زانو پر اپنی سوئی ہوئی قسمت کو جگا بھی نہ سکوں

— امیر مینائی

دل کو طرز نگۂ یار جتاتے آئے

دل کو طرز نگۂ یار جتاتے آئے تیر بھی آئے تو بے پر کی اڑاتے آئے بادشاہوں کا ہے دربار در پیر مغاں سیکڑوں جاتے گئے سیکڑوں آتے آئے چھپ کے بھی آئے مرے گھر تو وو دربانوں کو اپنی پازیب کی جھنکار سناتے آئے روز محشر جو بلائے گئے دیوانۂ زلف بیڑیاں پہنے ہوئے شور مچاتے آئے کیا کہیں گے کوئی محشر میں جو پوچھے گا امیرؔ کیوں نہ بگڑی ہوئی باتوں کو بناتے آئے

— امیر مینائی