امیر مینائی

ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی

05 January 2026

16سپیکرز
277لسنرز

سپیکرز

امل خان کا پیش کردہ کلام

مرے بس میں یا تو یارب وہ ستم شعار ہوتا

مرے بس میں یا تو یارب وہ ستم شعار ہوتا یہ نہ تھا تو کاش دل پر مجھے اختیار ہوتا پس مرگ کاش یوں ہی مجھے وصل یار ہوتا وہ سر مزار ہوتا میں تہہ مزار ہوتا ترا مے کدہ سلامت ترے خم کی خیر ساقی مرا نشہ کیوں اترتا مجھے کیوں خمار ہوتا میں ہوں نامراد ایسا کہ بلک کے یاس روتی کہیں پا کے آسرا کچھ جو امیدوار ہوتا نہیں پوچھتا ہے مجھ کو کوئی پھول اس چمن میں دل داغدار ہوتا تو گلے کا ہار ہوتا وہ مزا دیا تڑپ نے کہ یہ آرزو ہے یارب مرے دونوں پہلوؤں میں دل بے قرار ہوتا دم نزع بھی جو وہ بت مجھے آ کے منہ دکھاتا تو خدا کے منہ سے اتنا نہ میں شرمسار ہوتا نہ ملک سوال کرتے نہ لحد فشار دیتی سر راہ کوئے قاتل جو مرا مزار ہوتا جو نگاہ کی تھی ظالم تو پھر آنکھ کیوں چرائی وہی تیر کیوں نہ مارا جو جگر کے پار ہوتا میں زباں سے تم کو سچا کہو لاکھ بار کہہ دوں اسے کیا کروں کہ دل کو نہیں اعتبار ہوتا مری خاک بھی لحد میں نہ رہی امیرؔ باقی انہیں مرنے ہی کا اب تک نہیں اعتبار ہوتا

— امیر مینائی

فراق یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھا

فراق یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھا کبھی تکیہ ادھر رکھا کبھی تکیہ ادھر رکھا شکست دل کا باقی ہم نے غربت میں اثر رکھا لکھا اہل وطن کو خط تو اک گوشہ کتر رکھا برابر آئینے کے بھی نہ سمجھے قدر وہ دل کی اسے زیر قدم رکھا اسے پیش نظر رکھا مٹائے دیدہ و دل دونوں میرے اشک خونیں نے عجب یہ طفل ابتر تھا نہ گھر رکھا نہ در رکھا تمہارے سنگ در کا ایک ٹکڑا بھی جو ہاتھ آیا عزیز ایسا کیا مر کر اسے چھاتی پہ دھر رکھا جناں میں ساتھ اپنے کیوں نہ لے جاؤں گا ناصح کو سلوک ایسا ہی میرے ساتھ ہے حضرت نے کر رکھا نہ کی کس نے سفارش میری وقت قتل قاتل سے کماں نے ہاتھ جوڑے تیغ نے قدموں پہ سر رکھا غضب برسے وہ میرے آتے ہی معلوم ہوتا ہے جگہ خالی جو پائی یار کو غیروں نے بھر رکھا بڑا احساں ہے میرے سر پہ اس کی لغزش پا کا کہ اس نے بے تحاشا ہاتھ میرے دوش پر رکھا زمیں میں دانۂ گندم صدف میں ہم ہوے گوہر ہمارے عجز نے ہر معرکہ میں ہم کو در رکھا ترے ہر نقش پا کو رہ گزر میں سجدہ گہ سمجھے جہاں تو نے قدم رکھا وہاں میں نے بھی سر رکھا امیر اچھا شگون مے کیا ساقی کی فرقت میں جو برسا ابر رحمت جائے مے شیشوں میں بھر رکھا

— امیر مینائی