سپیکرز
امل خان کا پیش کردہ کلام
مرے بس میں یا تو یارب وہ ستم شعار ہوتا
مرے بس میں یا تو یارب وہ ستم شعار ہوتا یہ نہ تھا تو کاش دل پر مجھے اختیار ہوتا پس مرگ کاش یوں ہی مجھے وصل یار ہوتا وہ سر مزار ہوتا میں تہہ مزار ہوتا ترا مے کدہ سلامت ترے خم کی خیر ساقی مرا نشہ کیوں اترتا مجھے کیوں خمار ہوتا میں ہوں نامراد ایسا کہ بلک کے یاس روتی کہیں پا کے آسرا کچھ جو امیدوار ہوتا نہیں پوچھتا ہے مجھ کو کوئی پھول اس چمن میں دل داغدار ہوتا تو گلے کا ہار ہوتا وہ مزا دیا تڑپ نے کہ یہ آرزو ہے یارب مرے دونوں پہلوؤں میں دل بے قرار ہوتا دم نزع بھی جو وہ بت مجھے آ کے منہ دکھاتا تو خدا کے منہ سے اتنا نہ میں شرمسار ہوتا نہ ملک سوال کرتے نہ لحد فشار دیتی سر راہ کوئے قاتل جو مرا مزار ہوتا جو نگاہ کی تھی ظالم تو پھر آنکھ کیوں چرائی وہی تیر کیوں نہ مارا جو جگر کے پار ہوتا میں زباں سے تم کو سچا کہو لاکھ بار کہہ دوں اسے کیا کروں کہ دل کو نہیں اعتبار ہوتا مری خاک بھی لحد میں نہ رہی امیرؔ باقی انہیں مرنے ہی کا اب تک نہیں اعتبار ہوتا
فراق یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھا
فراق یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھا کبھی تکیہ ادھر رکھا کبھی تکیہ ادھر رکھا شکست دل کا باقی ہم نے غربت میں اثر رکھا لکھا اہل وطن کو خط تو اک گوشہ کتر رکھا برابر آئینے کے بھی نہ سمجھے قدر وہ دل کی اسے زیر قدم رکھا اسے پیش نظر رکھا مٹائے دیدہ و دل دونوں میرے اشک خونیں نے عجب یہ طفل ابتر تھا نہ گھر رکھا نہ در رکھا تمہارے سنگ در کا ایک ٹکڑا بھی جو ہاتھ آیا عزیز ایسا کیا مر کر اسے چھاتی پہ دھر رکھا جناں میں ساتھ اپنے کیوں نہ لے جاؤں گا ناصح کو سلوک ایسا ہی میرے ساتھ ہے حضرت نے کر رکھا نہ کی کس نے سفارش میری وقت قتل قاتل سے کماں نے ہاتھ جوڑے تیغ نے قدموں پہ سر رکھا غضب برسے وہ میرے آتے ہی معلوم ہوتا ہے جگہ خالی جو پائی یار کو غیروں نے بھر رکھا بڑا احساں ہے میرے سر پہ اس کی لغزش پا کا کہ اس نے بے تحاشا ہاتھ میرے دوش پر رکھا زمیں میں دانۂ گندم صدف میں ہم ہوے گوہر ہمارے عجز نے ہر معرکہ میں ہم کو در رکھا ترے ہر نقش پا کو رہ گزر میں سجدہ گہ سمجھے جہاں تو نے قدم رکھا وہاں میں نے بھی سر رکھا امیر اچھا شگون مے کیا ساقی کی فرقت میں جو برسا ابر رحمت جائے مے شیشوں میں بھر رکھا