امیر مینائی

ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی

05 January 2026

16سپیکرز
277لسنرز

سپیکرز

مدثر ثانی کا پیش کردہ کلام

ہٹاؤ آئنہ امیدوار ہم بھی ہیں

ہٹاؤ آئنہ امیدوار ہم بھی ہیں تمہارے دیکھنے والوں میں یار ہم بھی ہیں تڑپ کے روح یہ کہتی ہے ہجر جاناں میں کہ تیرے ساتھ دل بے قرار ہم بھی ہیں رہے دماغ اگر آسماں پہ دور نہیں کہ تیرے کوچہ میں مست غبار ہم بھی ہیں کہو کہ نخل چمن ہم سے سرکشی نہ کریں انہیں کی طرح سے باغ و بہار ہم بھی ہیں ہمارے آگے ذرا ہو سمجھ کے زمزمہ سنج کہ ایک نغمہ سرا اے ہزار ہم بھی ہیں کہاں تک آئنے میں دیکھ بھال ادھر دیکھو کہ اک نگاہ کے امیدوار ہم بھی ہیں شراب منہ سے لگاتے نہیں ہیں اے زاہد فراق یار میں پرہیزگار ہم بھی ہیں ہمارا نام بھی لکھ لو جو ہے قلم جاری قدیم آپ کے خدمت گزار ہم بھی ہیں ہما ہیں گرد مری ہڈیوں کے آٹھ پہر سگ آ کے کہتے ہیں امیدوار ہم بھی ہیں جو لڑکھڑا کے گرے تو قدم پہ ساقی کے امیرؔ مست نہیں ہوشیار ہم بھی ہیں

— امیر مینائی

تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے

تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے سینہ کس کا ہے مری جان جگر کس کا ہے خوف میزان قیامت نہیں مجھ کو اے دوست تو اگر ہے مرے پلے میں تو ڈر کس کا ہے کوئی آتا ہے عدم سے تو کوئی جاتا ہے سخت دونوں میں خدا جانے سفر کس کا ہے چھپ رہا ہے قفس تن میں جو ہر طائر دل آنکھ کھولے ہوئے شاہین نظر کس کا ہے نام شاعر نہ سہی شعر کا مضمون ہو خوب پھل سے مطلب ہمیں کیا کام شجر کس کا ہے صید کرنے سے جو ہے طائر دل کے منکر اے کماندار ترے تیر میں پر کس کا ہے میری حیرت کا شب وصل یہ باعث ہے امیرؔ سر بہ زانو ہوں کہ زانو پہ یہ سر کس کا ہے

— امیر مینائی

تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے

تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے سینہ کس کا ہے مری جان جگر کس کا ہے خوف میزان قیامت نہیں مجھ کو اے دوست تو اگر ہے مرے پلے میں تو ڈر کس کا ہے کوئی آتا ہے عدم سے تو کوئی جاتا ہے سخت دونوں میں خدا جانے سفر کس کا ہے چھپ رہا ہے قفس تن میں جو ہر طائر دل آنکھ کھولے ہوئے شاہین نظر کس کا ہے نام شاعر نہ سہی شعر کا مضمون ہو خوب پھل سے مطلب ہمیں کیا کام شجر کس کا ہے صید کرنے سے جو ہے طائر دل کے منکر اے کماندار ترے تیر میں پر کس کا ہے میری حیرت کا شب وصل یہ باعث ہے امیرؔ سر بہ زانو ہوں کہ زانو پہ یہ سر کس کا ہے

— امیر مینائی