سپیکرز
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
اے ضبط دیکھ عشق کی ان کو خبر نہ ہو
اے ضبط دیکھ عشق کی ان کو خبر نہ ہو دل میں ہزار درد اٹھے آنکھ تر نہ ہو مدت میں شام وصل ہوئی ہے مجھے نصیب دو چار سال تک تو الٰہی سحر نہ ہو اک پھول ہے گلاب کا آج ان کے ہاتھ میں دھڑکا مجھے یہ ہے کہ کسی کا جگر نہ ہو ڈھونڈے سے بھی نہ معنی باریک جب ملا دھوکا ہوا یہ مجھ کو کہ اس کی کمر نہ ہو الفت کی کیا امید وہ ایسا ہے بے وفا صحبت ہزار سال رہے کچھ اثر نہ ہو طول شب وصال ہو مثل شب فراق نکلے نہ آفتاب الٰہی سحر نہ ہو
خط جو نکلا بوسۂ رخسار آساں ہو گیا
خط جو نکلا بوسۂ رخسار آساں ہو گیا کارواں آنے سے نرخ حسن ارزاں ہو گیا کیا ہمارے گور پر ہے احتیاج روشنی چار جگنو جب چمک نکلے چراغاں ہو گیا سوز غم میں کچھ نہ پوچھو جلد تن کا مجھ سے حال جل کے یہ کاغذ شراروں سے چراغاں ہو گیا میرے چشم تر سے ہم چشمی کا رکھتا تھا خیال پانی پانی یہ ہوا یا دل کہ باراں ہو گیا دیکھ قاتل اپنے دیوانے کا جذب شوق قتل جب گلے سے مل گیا خنجر گریباں ہو گیا او کماندار اس کو کہتے ہیں ہجوم درد و غم تنگئ دل سے سمٹ کر تیر پیکاں ہو گیا آسیائے چشم لیلیٰ نے یہ پیسا دشت میں بخت مجنوں سرمۂ چشم غزالاں ہو گیا بوسۂ گیسو پہ اس نے ذبح کر ڈالا مجھے ایک کافر کے لئے خون مسلماں ہو گیا تھا مسلماں جب تلک مشتاق کافر تھا وہ بت یہ ہوا کافر تو وہ ضدی مسلماں ہو گیا نامۂ اعمال ہے جب تک نہیں ملتا امیرؔ میرے ہاتھ آیا یہ اور میرا گریباں ہو گیا