امیر مینائی

ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی

05 January 2026

16سپیکرز
277لسنرز

سپیکرز

ثاقب فردوس کا پیش کردہ کلام

ایک دل ہمدم مرے پہلو سے کیا جاتا رہا

ایک دل ہمدم مرے پہلو سے کیا جاتا رہا سب تڑپنے تلملانے کا مزا جاتا رہا سب کرشمے تھے جوانی کے جوانی کیا گئی وہ امنگیں مٹ گئیں وہ ولولہ جاتا رہا درد باقی غم سلامت ہے مگر اب دل کہاں ہائے وہ غم دوست وہ درد آشنا جاتا رہا آنے والا جانے والا بے کسی میں کون تھا ہاں مگر اک دم غریب آتا رہا جاتا رہا آنکھ کیا ہے موہنی ہے سحر ہے اعجاز ہے اک نگاہ لطف میں سارا گلا جاتا رہا مر گیا میں جب تو ظالم نے کہا افسوس آج ہائے ظالم ہائے ظالم کا مزا جاتا رہا درد باقی داغ باقی دل ہی پہلو میں نہیں رہ گئے نا آشنا سب آشنا جاتا رہا جھوٹے وعدوں سے وہ راحت کا سہارا بھی گیا وائے قسمت یاس کا بھی آسرا جاتا رہا بے تکلف نشۂ مے نے تو ان کو کر دیا پردہ شرمیلی نگاہوں کا مزا جاتا رہا شربت دیدار سے تسکین سی کچھ ہو گئی دیکھ لینے سے دوا کا درد کیا جاتا رہا مجھ کو گلیوں میں جو دیکھا چھیڑ کر کہنے لگا کیوں میاں کیا ڈھونڈتے پھرتے ہو کیا جاتا رہا نیند بھی فرقت میں کھا بیٹھی ہے آنے کی قسم خواب میں بھی دیکھنے کا آسرا جاتا رہا جب تلک تم تھے کشیدہ دل تھا اشکوں سے بھرا تم گلے سے مل گئے سارا گلا جاتا رہا مرگ دشمن پر کف افسوس تم ملتے تو ہو پھر ملو گے ہاتھ لو رنگ حنا جاتا رہا شیخ جی ہیں اور شب بھر دخت رز سے اختلاط وہ تقدس ہو چکا وہ التقا جاتا رہا شوخیاں رگ رگ میں ہیں جمتا وہاں کس کا ہے رنگ آتے آتے ہاتھ میں رنگ حنا جاتا رہا ہائے وہ صبح شب وصل ان کا کہنا شرم سے آپ جب آئے تو دل سے مدعا جاتا رہا دل وہی آنکھیں وہی لیکن جوانی وہ کہاں ہائے اب وہ تاکنا وہ جھانکنا جاتا رہا میں نے چھاتی سے لگا کر جس کو رکھا عمر بھر ہائے وہ نازوں کا پالا دل مرا جاتا رہا گھورتے دیکھا جو ہم چشموں میں جھنجھلا کر کہا کیا لحاظ آنکھوں کا بھی او بے حیا جاتا رہا کیا بری شے ہے جوانی رات دن ہے تاک جھانک ڈر بتوں کا اک طرف خوف خدا جاتا رہا کھو گیا دل کھو گیا رہتا تو کیا ہوتا امیرؔ جانے دو اک بے وفا جاتا رہا جاتا رہا

— امیر مینائی