امیر مینائی

ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی

05 January 2026

16سپیکرز
277لسنرز

سپیکرز

یادرفتگان کا پیش کردہ کلام

ہوا جو پیوند میں زمیں کا تو دل ہوا شاد مجھ حزیں کا

ہوا جو پیوند میں زمیں کا تو دل ہوا شاد مجھ حزیں کا بس اب ارادہ نہیں کہیں کا کہ رہنے والا ہوں میں یہیں کا قریب ہے یارو روز محشر چھپے گا کشتوں کا خون کیوں کر جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا ہوائے مے میں ہوں محو ایسا چمن میں گھر کر جو ابر آیا سیہ مستی میں میں یہ سمجھا جہاز ہے آب آتشیں کا امیرؔ دیکھا جو اس کا نقشہ تو نقشہ یوسف کا دل سے اترا کہ نقش ثانی کے آگے ہوتا فروغ کیا نقش اولیں کا

— امیر مینائی

تمہیں کو جانا تمہیں کو سمجھے تمام عالم سے تنگ ہو کر

تمہیں کو جانا تمہیں کو سمجھے تمام عالم سے تنگ ہو کر دوئی کا وحدت میں دخل کیسا رہے ہمیشہ اکنگ ہو کر نہاں تھا آنا کہ ہو نہ ظاہر عیاں تھا جانا کہ سب ہوں باہر وہ دل میں آئے امنگ ہو کر گئے تو چہرے کا رنگ ہو کر غضب ہے انساں دم مصیبت کرے جو انساں سے بے وفائی کہ دیکھو چکی کی پاٹ کیسے بہم ہیں گردش میں سنگ ہو کر نہ کور باطن ہو اے برہمن ذرا تو چشم تمیز وا کر خدا کا بندہ بتوں کو سجدہ خدا خدا کر خدا خدا کر جو اٹھ کے پہلو سے انجمن میں وہ دور بیٹھے ہیں مجھ سے جا کر تڑپ نے درد جگر کے دل کو پٹک دیا ہے اٹھا اٹھا کر جو آنکھ کھولی تو کچھ نہ دیکھا سحر کو سنسان سب سرا تھی ہوا نہ ہم راہیوں سے اتنا کہ ساتھ لیتے مجھے جگا کر نہ بھول اس زندگی پہ غافل نہیں ہے کچھ اعتبار اس کا کہ راہ لے گی یہ اپنی اک دن عدم کا رستہ تجھے بتا کر اسی کا ہے رنگ یاسمن میں اسی کی بو باس نسترن میں جو کھڑکے پتا بھی اس چمن میں خیال آواز آشنا کر بلا ہے حرص و ہوائے دنیا کہ جس سے چکر میں سب ہیں انساں کیا پریشاں ان آندھیوں نے تمام ذروں کو خاک اڑا کر یہ کس کی تیغ جفا کا یا رب ہر ایک دل پر ہے رعب غالب ہلال کی ہے خمیدہ گردن سپہر چلتا ہے سر جھکا کر شبیہ مد نظر ہے کس کی کہ کوئی پوری نہیں اترتی مٹا دیے صانع ازل نے ہزاروں نقشے بنا بنا کر ہو بزم جاناں میں حشر برپا تڑپ کا دل کی یہ تھا تقاضا مگر بڑی مشکلوں سے روکا ادب نے زانو دبا دبا کر

— امیر مینائی