سپیکرز
زاہدحسین کا پیش کردہ کلام
جب خوبرو چھپاتے ہیں عارض نقاب میں
جب خوبرو چھپاتے ہیں عارض نقاب میں کہتا ہے حُسن میں نہ رہوں گا حجاب میں بے قصد لکھ دیا ہے گِلہ اِضطراب میں دیکھوں کہ کیا وہ لکھتے ہیں خط کے جواب میں دو کی جگہ دئیے مجھے بوسے بہک کے چار تھے نیند میں، پڑا اُنہیں دھوکا حساب میں سمجھا ہے تو جو غیبتِ پیر مغاں حلال، واعظ، بتا یہ مسئلہ ہے کس کی کتاب میں؟ دامن میں اُن کے خوں کی چھینٹیں پڑیں امیر بسمل سے پاس ہو نہ سکا اضطراب میں
کچھ خار ہی نہیں مرے دامن کے یار ہیں
کچھ خار ہی نہیں مرے دامن کے یار ہیں گردن میں طوق بھی تو لڑکپن کے یار ہیں سینہ ہو کشتگان محبت کا یا گلا دونوں یہ تیرے خنجر آہن کے یار ہیں خاطر ہماری کرتا ہے دیر و حرم میں کون ہم تو نہ شیخ کے نہ برہمن کے یار ہیں کیا پوچھتا ہے مجھ سے نشاں سیل و برق کا دونوں قدیم سے مرے خرمن کے یار ہیں کیا گرم ہیں کہ کہتے ہیں خوبان لکھنؤ لندن کو جائیں وہ جو فرنگن کے یار ہیں وہ دشمنی کریں تو کریں اختیار ہے ہم تو عدو کے دوست ہیں دشمن کے یار ہیں کچھ اس چمن میں سبزۂ بیگانہ ہم نہیں نرگس کے دوست لالہ و سوسن کے یار ہیں کانٹے ہیں جتنے وادئ غربت کے اے جنوں سب آستیں کے جیب کے دامن کے یار ہیں گم گشتگی میں راہ بتاتا ہے ہم کو کون ہے خضر جن کا نام وہ رہزن کے یار ہیں چلتے ہیں شوق برق تجلی میں کیا ہے خوف چیتے تمام وادیٔ ایمن کے یار ہیں پیری مجھے چھڑاتی ہے احباب سے امیرؔ دنداں نہیں یہ میرے لڑکپن کے یار ہیں