سپیکرز
راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام
سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ
سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ نکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ شب فرقت کا جاگا ہوں فرشتو اب تو سونے دو کبھی فرصت میں کر لینا حساب آہستہ آہستہ سوال وصل پر ان کو عدو کا خوف ہے اتنا دبے ہونٹوں سے دیتے ہیں جواب آہستہ آہستہ وہ بے دردی سے سر کاٹیں امیرؔ اور میں کہوں ان سے حضور آہستہ آہستہ جناب آہستہ آہستہ
مجھ مست کو مے کی بو بہت ہے
مجھ مست کو مے کی بو بہت ہے دیوانے کو ایک ہو بہت ہے موتی کی طرح جو ہو خداداد تھوڑی سی بھی آبرو بہت ہے جاتے ہیں جو صبر و ہوش جائیں مجھ کو اے درد تو بہت ہے مانند کلیم بڑھ نہ اے دل یہ درد کی گفتگو بہت ہے بے کیف ہو مے تو خم کے خم کیا اچھی ہو تو اک سبو بہت ہے کیا وصل کی شب میں مشکلیں ہیں فرصت کم آرزو بہت ہے منظور ہے خون دل جو اے یاس اپنے لیے آرزو بہت ہے اے نشتر غم ہو لاکھ تن خشک تیرے دم کو لہو بہت ہے چھیڑے وہ مژہ تو کیوں میں روؤں آنکھوں میں خلش کو مو بہت ہے غنچے کی طرح چمن میں ساقی اپنا ہی مجھے سبو بہت ہے کیا غم ہے امیرؔ اگر نہیں مال اس وقت میں آبرو بہت ہے