سپیکرز
نور مائیر کا پیش کردہ کلام
تیرکھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر
تیرکھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر سرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کر کوہ کن کوہ کنی شیوۂ عشاق نہیں ہے جو عاشق دل معشوق میں گھر پیدا کر رنگ چاہے اگر اس باغ میں آزادی کا نکہت گل کی طرح شوق سفر پیدا کر قطرۂ اشک بنے گوہر گوش جاناں آبرو اتنی تو اے دیدۂ تر پیدا کر اڑ چلے گا ابھی اے یار ذرا بال تو کھول تجھ کو بننا ہے پری زاد تو پر پیدا کر کون سی جا ہے جہاں جلوۂ معشوق نہیں شوق دیدار اگر ہے تو نظر پیدا کر میرے ہی دل پہ گرے کاش یہ بجلی بن کر اے فلک آہ میں اتنا ہی اثر پیدا کر آخرت میں عمل نیک ہی کام آئیں گے پیش ہے تجھ کو سفر زاد سفر پیدا کر عشق حسن نمکیں کا جو اٹھانا ہے مزا پہلے کچھ ذائقۂ زخم جگر پیدا کر اپنی گردش پہ بہت ہے تجھے اے چرخ گھمنڈ جب میں جانوں کہ شب غم کی سحر پیدا کر صدمے الفت کے اٹھانے ہیں الٰہی مشکل دل اگر ایک دیا لاکھ جگر پیدا کر عشق بازی کا اگر حوصلہ رکھتا ہے امیرؔ دل جو لوہے کا تو پتھر کا جگر پیدا کر
یہ کلیجا کہاں سے لائیں ہم
تیرے جور و ستم اُٹھائیں ہم یہ کلیجا کہاں سے لائیں ہم جی میں ہے اب وہاں نہ جائیں ہم دل کی طاقت بھی آزمائیں ہم نالے کرتے نہیں یہ الفت میں باندھتے ہیں تری ہوائیں ہم اب لب یار کیا ترے ہوتے لب ساغر کو منہ لگائیں ہم دل میں تم، دل ہے سینہ سے خود گم کوئی پوچھے تو کیا بتائیں ہم آب شمشیر یار اگر مل جائے اپنے دل کی لگی بجھائیں ہم اب جو منہ موڑیں بندگی سے تری اے بت اپنے خدا سے پائیں ہم زندگی میں ہے موت کا کھٹکا قصر کیا مقبرہ بنائیں ہم توبۂ مے سے کیا پشیماں ہیں زاہد و دیکھ کر گھٹائیں ہم دل میں ہے مثل ہیزم و آتش جو گھٹائے اُسے بڑھائیں ہم زار سے زار ہیں جہاں میں امیر دل ہی بیٹھے جو لطف اٹھائیں ہم