امیر مینائی

ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی

05 January 2026

16سپیکرز
277لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

تیرکھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر

تیرکھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر سرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کر کوہ کن کوہ کنی شیوۂ عشاق نہیں ہے جو عاشق دل معشوق میں گھر پیدا کر رنگ چاہے اگر اس باغ میں آزادی کا نکہت گل کی طرح شوق سفر پیدا کر قطرۂ اشک بنے گوہر گوش جاناں آبرو اتنی تو اے دیدۂ تر پیدا کر اڑ چلے گا ابھی اے یار ذرا بال تو کھول تجھ کو بننا ہے پری زاد تو پر پیدا کر کون سی جا ہے جہاں جلوۂ معشوق نہیں شوق دیدار اگر ہے تو نظر پیدا کر میرے ہی دل پہ گرے کاش یہ بجلی بن کر اے فلک آہ میں اتنا ہی اثر پیدا کر آخرت میں عمل نیک ہی کام آئیں گے پیش ہے تجھ کو سفر زاد سفر پیدا کر عشق حسن نمکیں کا جو اٹھانا ہے مزا پہلے کچھ ذائقۂ زخم جگر پیدا کر اپنی گردش پہ بہت ہے تجھے اے چرخ گھمنڈ جب میں جانوں کہ شب غم کی سحر پیدا کر صدمے الفت کے اٹھانے ہیں الٰہی مشکل دل اگر ایک دیا لاکھ جگر پیدا کر عشق بازی کا اگر حوصلہ رکھتا ہے امیرؔ دل جو لوہے کا تو پتھر کا جگر پیدا کر

— امیر مینائی

یہ کلیجا کہاں سے لائیں ہم

تیرے جور و ستم اُٹھائیں ہم یہ کلیجا کہاں سے لائیں ہم جی میں ہے اب وہاں نہ جائیں ہم دل کی طاقت بھی آزمائیں ہم نالے کرتے نہیں یہ الفت میں باندھتے ہیں تری ہوائیں ہم اب لب یار کیا ترے ہوتے لب ساغر کو منہ لگائیں ہم دل میں تم، دل ہے سینہ سے خود گم کوئی پوچھے تو کیا بتائیں ہم آب شمشیر یار اگر مل جائے اپنے دل کی لگی بجھائیں ہم اب جو منہ موڑیں بندگی سے تری اے بت اپنے خدا سے پائیں ہم زندگی میں ہے موت کا کھٹکا قصر کیا مقبرہ بنائیں ہم توبۂ مے سے کیا پشیماں ہیں زاہد و دیکھ کر گھٹائیں ہم دل میں ہے مثل ہیزم و آتش جو گھٹائے اُسے بڑھائیں ہم زار سے زار ہیں جہاں میں امیر دل ہی بیٹھے جو لطف اٹھائیں ہم

— امیر مینائی