امیر مینائی

ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی

05 January 2026

16سپیکرز
277لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

ہیں نہ زندوں میں نہ مردوں میں کمر کے عاشق

ہیں نہ زندوں میں نہ مردوں میں کمر کے عاشق نہ ادھر کے ہیں الٰہی نہ ادھر کے عاشق ہے وہی آنکھ جو مشتاق ترے دید کی ہو کان وہ ہیں جو رہیں تیری خبر کے عاشق جتنے ناوک ہیں کماندار ترے ترکش میں کچھ مرے دل کے ہیں کچھ میرے جگر کے عاشق برہمن دیر سے کعبے سے پھر آئے حاجی تیرے در سے نہ سرکنا تھا نہ سرکے عاشق آنکھ دکھلاؤ انہیں مرتے ہوں جو آنکھوں پر ہم تو ہیں یار محبت کی نظر کے عاشق چھپ رہے ہوں گے نظر سے کہیں عنقا کی طرح توبہ کیجے کہیں مرتے ہیں کمر کے عاشق بے جگر معرکۂ عشق میں کیا ٹھہریں گے کھاتے ہیں خنجر معشوق کے چرکے عاشق تجھ کو کعبہ ہو مبارک دل ویراں ہم کو ہم ہیں زاہد اسی اجڑے ہوئے گھر کے عاشق کیا ہوا لیتی ہیں پریاں جو بلائیں تیری کہ پری زاد بھی ہوتے ہیں بشر کے عاشق بے کسی درد و الم داغ تمنا حسرت چھوڑے جاتے ہیں پس مرگ یہ ترکے عاشق بے سبب سیر شب ماہ نہیں ہے یہ امیرؔ ہو گئے تم بھی کسی رشک قمر کے عاشق

— امیر مینائی

چاند سا چہرہ نور کی چتون ماشاء اللہ ماشاء اللہ

چاند سا چہرہ نور کی چتون ماشاء اللہ ماشاء اللہ طرفہ نکالا آپ نے جوبن ماشاء اللہ ماشاء اللہ گل رخ نازک زلف ہے سنبل آنکھ ہے نرگس سیب زنخداں حسن سے تم ہو غیرت گلشن ماشاء اللہ ماشاء اللہ ساقیٔ بزم روز ازل نے بادۂ حسن بھرا ہے اس میں آنکھیں ہیں ساغر شیشہ ہے گردن ماشاء اللہ ماشاء اللہ قہر غضب ظاہر کی رکاوٹ آفت جاں در پردہ لگاوٹ چاہ کی تیور پیار کی چتون ماشاء اللہ ماشاء اللہ غمزہ اچکا عشوہ ہے ڈاکو قہر ادائیں سحر ہیں باتیں چور نگاہیں ناز ہے رہزن ماشاء اللہ ماشاء اللہ نور کا تن ہے نور کے کپڑے اس پر کیا زیور کی چمک ہے چھلے کنگن اکے جوشن ماشاء اللہ ماشاء اللہ جمع کیا ضدین کو تم نے سختی ایسی نرمی ایسی موم بدن ہے دل ہے آہن ماشاء اللہ ماشاء اللہ واہ امیرؔ ایسا ہو کہنا شعر ہیں یا معشوق کا گہنہ صاف ہے بندش مضموں روشن ماشاء اللہ ماشاء اللہ

— امیر مینائی