سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ملک
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آزاد
انتظار حسین
حماد ابراہیم
راجا اکرام قمر
ریبل
شاز
صباگل
عروج فیاض
مہرزادہ
نایاب
ندیم بخاری
نگاہ بسمل
واجد علی
وقاراحسن
حماد ابراہیم کا پیش کردہ کلام
مٹی! تجھ کو نذر کئے ہیں ہم نے اپنے سارے خواب
مٹی! تجھ کو نذر کئے ہیں ہم نے اپنے سارے خواب اپنے ہاتھوں دفنائے ہیں کیسے پیارے پیارے خواب کیسی کیسی چین کی پریاں پل میں ہو جاتی ہیں راکھ پلکوں اوپر رکھ جاتے ہیں ہر شب کچھ انگارے، خواب پتھر کی بے رحم زمیں پر ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گیا کانچ کے برتن ہی تو ٹھہرے آخرکار ہمارے خواب اُن سے مل کر کچھ تو ہلکا ہو جاتا ہے جی کا بوجھ باتیں کرنے آ جاتے ہیں اکثر سانجھ سکارے خواب آنکھ کے دروازے تک آئے، پُرسہ دے کر لوٹ گئے اس کے سوا اور کرتے بھی کیا، بے بس اور بے چارے خواب دل کا تٹ، آنکھوں کا پانی، زخم کا سبزہ، درد کی دھوپ ڈیرہ ڈالتے اور کہاں پر آخر یہ بنجارے خواب