سپیکرز
واجد علی کا پیش کردہ کلام
دیکھے گا وہ، دِکھائے گا بھی، کیا کریں اُسے
دیکھے گا وہ، دِکھائے گا بھی، کیا کریں اُسے وہ آئینہ ہے کس طرح اندھا کریں اُسے بستی کو ہم جو چاند ستارے نہ سونپ پائیں مِٹی کا ایک دِیاہی مہیا کریں اُسے ہر پَل ہے ایک منظرِدیگرنِگاہ میں ہاں جی تو چہاتا ہے کہ دیکھا کریں اسے وہ جاں کا ہے رقیب تو گھر سے نکال دیں اسے غم جی نہ پائے، یوں بھی تنہا کریں اسے ہم جستجو میں گم رہیں اُس کی،یہ اپنی دُھن اُس کو بھی اِس میں لُطف کہ ڈُھونڈا کریں اُسے اپنے سِوا کوئی نہ اسے اور دیکھ پائے آتا ہو یہ ہنر تو تماشا کریں اُسے اس کی ہَوا میں آکے ظفر لوٹ پائیں گے؟ اِک حد کے بعد اور سوچا نہ کریں اُسے
کیا بدن ہوگا، جلا ہے دریچوں کے قریب
کیا بدن ہوگا، جلا ہے دریچوں کے قریب بھیگے موسم میں بھی اتنی آنچ پردوں کے قریب جیسے وہ جوڑا ابھی تک مانگتا ہے مجھ سے پھول پاؤں رک جاتے ہیں اکثر آ کے گملوں کے قریب زندگی نے دے کے محسوسات کی دولت مجھے کیسی کیسی برچھیاں رکھ دی ہیں سانسوں کے قریب جانتا تھا ایک دن دنیا کو ہو گی اپنی کھوج میں نے اپنی رہگزر رکھ دی تھی نقشوں کے قریب کس کہانی کو بچانا چاہتا تھا وہ ظفرؔ اک لرزتا ہاتھ تھا کاغذ کے پُرزوں کے قریب