سپیکرز
نگاہ بسمل کا پیش کردہ کلام
زمیں پھر درد کا یہ سائباں کوئی نہیں دے گا
زمیں پھر درد کا یہ سائباں کوئی نہیں دے گا تجھے ایسا کشادہ آسماں کوئی نہیں دے گا ابھی زندہ ہیں ہم پر ختم کر لے امتحاں سارے ہمارے بعد کوئی امتحاں کوئی نہیں دے گا جو پیاسے ہو تو اپنے ساتھ رکھو اپنے بادل بھی یہ دنیا ہے وراثت میں کنواں کوئی نہیں دے گا ملیں گے مفت شعلوں کی قبائیں بانٹنے والے مگر رہنے کو کاغذ کا مکاں کوئی نہیں دے گا خود اپنا عکس بک جائے اسیر آئینہ ہو کر یہاں اس دام پر نام و نشاں کوئی نہیں دے گا ہماری زندگی بیوہ دلہن بھیگی ہوئی لکڑی جلیں گے چپکے چپکے سب دھواں کوئی نہیں دے گا
عشق میں کیا کیا میرے جنوں کی کی نہ برائی لوگوں نے
عشق میں کیا کیا میرے جنوں کی کی نہ برائی لوگو نے کچھ تم نے بدنام کیا کچھ آگ لگائیں لوگو نے میرے لہو کے رنگ سے چمکی مہندی کتنے ہاتھوں پر شہر میں جس دن قتل ہوا میں عید منائی لوگو نے ہم ہی ان کو بام پے لائے اور ہم ہی محروم رہے پردہ اپنے نام سے اٹھا آنکھ ملائی لوگوں نے لوگوں کا بھی احسان ہے ہم پر ہم تیرے بھی شکر گزار تیری نظر نے مارا ہم کو لاش اٹھائی لوگو نے لوگوں نے ارمان نکالے ہمیں ہی بگڑی راس نہ آئی ہم کو ظفرؔ کل شیخ سمجھ کر خوب پلائی لوگوں نے