سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
دیکھیں قریب سے بھی تو اچھا دکھائی دے
دیکھیں قریب سے بھی تو اچھا دکھائی دے اک آدمی تو شہر میں ایسا دکھائی دے اب بھیک مانگنے کے طریقے بدل گئے لازم نہیں کہ ہاتھ میں کاسہ دکھائی دے نیزے پہ رکھ کے اور مرا سر بلند کر دنیا کو اک چراغ تو جلتا دکھائی دے دل میں ترے خیال کی بنتی ہے اک دھنک سورج سا آئنے سے گزرتا دکھائی دے چل زندگی کی جوت جگائے عجب نہیں لاشوں کے درمیاں کوئی رستہ دکھائی دے کیا کم ہے کہ وجود کے سناٹے میں ظفرؔ اک درد کی صدا ہے کہ زندہ دکھائی دے
اشک غم آنکھ سے باہر بھی نہیں آنے کا
اشک غم آنکھ سے باہر بھی نہیں آنے کا ابر چھٹ جائیں وہ منظر بھی نہیں آنے کا اب کے آغاز سفر سوچ سمجھ کے کرنا دشت ملنے کا نہیں گھر بھی نہیں آنے کا ہائے کیا ہم نے تڑپنے کا صلہ پایا ہے ایسا آرام جو آ کر بھی نہیں آنے کا عہد غالبؔ سے زیادہ ہے مرے عہد کا کرب اب تو کوزے میں سمندر بھی نہیں آنے کا سبزہ دیوار پہ اگ آیا ظفرؔ خوش ہو لو آگے آنکھوں میں یہ منظر بھی نہیں آنے کا
ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی
ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی جذبات میں وہ پہلی سی شدت نہیں رہی ضعف قویٰ نے آمد پیری کی دی نوید وہ دل نہیں رہا وہ طبیعت نہیں رہی سر میں وہ انتظار کا سودا نہیں رہا دل پر وہ دھڑکنوں کی حکومت نہیں رہی کمزوریٔ نگاہ نے سنجیدہ کر دیا جلووں سے چھیڑ چھاڑ کی عادت نہیں رہی ہاتھوں سے انتقام لیا ارتعاش نے دامان یار سے کوئی نسبت نہیں رہی پیہم طواف کوچۂ جاناں کے دن گئے پیروں میں چلنے پھرنے کی طاقت نہیں رہی چہرے کو جھریوں نے بھیانک بنا دیا آئینہ دیکھنے کی بھی ہمت نہیں رہی اللہ جانے موت کہاں مر گئی خمارؔ اب مجھ کو زندگی کی ضرورت نہیں رہی