ظفرگورکھپوری

ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)

21 November 2025

14سپیکرز
225لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

دیکھیں قریب سے بھی تو اچھا دکھائی دے

دیکھیں قریب سے بھی تو اچھا دکھائی دے اک آدمی تو شہر میں ایسا دکھائی دے اب بھیک مانگنے کے طریقے بدل گئے لازم نہیں کہ ہاتھ میں کاسہ دکھائی دے نیزے پہ رکھ کے اور مرا سر بلند کر دنیا کو اک چراغ تو جلتا دکھائی دے دل میں ترے خیال کی بنتی ہے اک دھنک سورج سا آئنے سے گزرتا دکھائی دے چل زندگی کی جوت جگائے عجب نہیں لاشوں کے درمیاں کوئی رستہ دکھائی دے کیا کم ہے کہ وجود کے سناٹے میں ظفرؔ اک درد کی صدا ہے کہ زندہ دکھائی دے

— ظفرگورکھپوری

اشک غم آنکھ سے باہر بھی نہیں آنے کا

اشک غم آنکھ سے باہر بھی نہیں آنے کا ابر چھٹ جائیں وہ منظر بھی نہیں آنے کا اب کے آغاز سفر سوچ سمجھ کے کرنا دشت ملنے کا نہیں گھر بھی نہیں آنے کا ہائے کیا ہم نے تڑپنے کا صلہ پایا ہے ایسا آرام جو آ کر بھی نہیں آنے کا عہد غالبؔ سے زیادہ ہے مرے عہد کا کرب اب تو کوزے میں سمندر بھی نہیں آنے کا سبزہ دیوار پہ اگ آیا ظفرؔ خوش ہو لو آگے آنکھوں میں یہ منظر بھی نہیں آنے کا

— ظفرگورکھپوری

ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی

ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی جذبات میں وہ پہلی سی شدت نہیں رہی ضعف قویٰ نے آمد پیری کی دی نوید وہ دل نہیں رہا وہ طبیعت نہیں رہی سر میں وہ انتظار کا سودا نہیں رہا دل پر وہ دھڑکنوں کی حکومت نہیں رہی کمزوریٔ نگاہ نے سنجیدہ کر دیا جلووں سے چھیڑ چھاڑ کی عادت نہیں رہی ہاتھوں سے انتقام لیا ارتعاش نے دامان یار سے کوئی نسبت نہیں رہی پیہم طواف کوچۂ جاناں کے دن گئے پیروں میں چلنے پھرنے کی طاقت نہیں رہی چہرے کو جھریوں نے بھیانک بنا دیا آئینہ دیکھنے کی بھی ہمت نہیں رہی اللہ جانے موت کہاں مر گئی خمارؔ اب مجھ کو زندگی کی ضرورت نہیں رہی

— خمار بارہ بنکوی