ظفرگورکھپوری

ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)

21 November 2025

14سپیکرز
225لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

جُنوں کے مرحلے تم نے دکھا دئیے مجھ کو

جُنوں کے مرحلے تم نے دکھا دئیے مجھ کو غُبار لے کے نہ جانے کِدھر گیا ہوتا بُلا رہی تھی مجھے گارگاہ ِشیشہ گراں میں اپنے شعلے کو نیلام کر گیا ہوتا ہوئی یہ خیر کہ احساس بن گیا تیشہ میں غم کے کوہ سے ٹکرا گیا ہوتا فراق ووصل کی مُردہ حکایتیں لے کر دیارِ حُسن میں آشفتہ سَر گیا ہوتا نئی بہار کے چہرے پہ ڈال کر پردہ کلی کلی کی نظر سے اُتر گیا ہوتا میں سادہ لوح مُسافر کسی کی زُلف تلے رہ ِحیات میں تھک کر ٹھہر گیا ہوتا نفس کی آگ، رگوں کی حسین چنگاری یہ موتیوں کا خزانہ بکھر گیاہوتا جہاں کی نبض شناسی تو خیردُوررہی میں اپنے پاس ہو کرگُزرگیاہوتا مُجھےیقین ہے کیفیؔ جو تم جاتے شعورگُھٹ کے اندھیروں میں مر گیا ہوتا

— ظفرگورکھپوری

زخم کھا کھا کے سنبھلنا کوئی ہم سے سیکھے

زخم کھا کھا کے سنبھلنا کوئی ہم سے سیکھے آئے، تلوار پہ چلنا کوئی ہم سے سیکھے اپنی منزل تو ہے گر کے سنبھلنا اے دوست اور گر گر کے سنبھلنا کوئی ہم سے سیکھے درد کھنچک آئے لبِ زیست پہ نغمہ بن کر اُس طرح دردمیں ڈھلنا کوئی ہم سے سیکھے نازشِ شوق ہیں ہم، سوختہ سامانِ بہار پھول کی آنچ سے جلنا کوئی ہم سے سیکھے ذرے ذرے میں سمانا تو ہے آسان مگر موجِ مئے بن کے اُبَلنا کوئی ہم سے سیکھے راہ پرخار پہ چلنے کو سبھی چلتے ہیں مسکراتے ہوئے چلنا کوئی ہم سے سیکھے اُجنبی بن کے کسی بزم میں داخل ہونا آشنا ہو کے نکلنا کوئی ہم سے سیکھے تیرگی سربگریباں ہے اَجالوں کی قسم روشنی کے لیے جلنا کوئی ہم سے سیکھے

— ظفرگورکھپوری

میں بولا کھو دیا مجھ کو

میں بولا کھو دیا مجھ کو وہ بولی زندگی ہی تھے میں بولا کچھ نہیں تھا میں؟ وہ بولی ہر خوشی ہی تھے میں بولا مجھ کو سنتی تو وہ بولی خامشی ہی تھے میں بولا اک خطا کر دی وہ بولی آدمی ہی تھے میں بولا سکھ اضافی تھے وہ بولی عارضی ہی تھے میں بولا آنکھ میں منظر وہ بولی بس نمی ہی تھے میں بولا میں تو خواہش تھا وہ بولی آخری ہی تھے

— زین شکیل