سپیکرز
نایاب کا پیش کردہ کلام
اور آہستہ کیجیے باتیں
اور آہستہ کیجیے باتیں دھڑکنیں کوئی سُن رہا ہوگا لفظ گِرنے نہ پائے ہونٹوں سے وقت کے ہاتھ اُن کو چُن لیں گے کان رکھتے ہیں یہ در و دیوار راز کی ساری بات سُن لیں گے اور آہستہ کیجیے باتیں دھڑکنیں کوئی سُن رہا ہوگا ایسے بولو کہ دِل کا افسانہ دِل سُنے اور نِگاہ دُہرائے اپنے چاروں طرف کی یہ دُنیا سانس کا شور بھی نہ سُن پائے اور آہستہ کیجیے باتیں دھڑکنیں کوئی سُن رہا ہوگا آئیے بند کر لیں دروازے رات سپنے چُرا نہ لے جائے کوئی جھونکا ہَوا کا آوارہ دِل کی باتوں کو اُڑا نہ لے جائے اور آہستہ کیجیے باتیں دھڑکنیں کوئی سُن رہا ہوگا
فصل گل ہے سجا ہے مے خانہ
فصل گل ہے سجا ہے مے خانہ چل مرے دل کھلا ہے مے خانہ شام کے وقت بیٹھنے کے لیے سب سے اچھی جگہ ہے مے خانہ خط ہے شاید کسی شرابی کا خط کے اوپر لکھا ہے مے خانہ کس طرح چھوڑ دوں اسے واعظ مشکلوں سے ملا ہے مے خانہ زندگی جب گزارنی ہے کہیں یار پھر کیا برا ہے مے خانہ جب سے وہ آنکھ ہے خفا ہم سے یوں لگے ہے خفا ہے مے خانہ