ظفرگورکھپوری

ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)

21 November 2025

14سپیکرز
225لسنرز

سپیکرز

مہرزادہ کا پیش کردہ کلام

تمہی نہیں ہو تو زندگانی میں کچھ نہیں ہے

تمہی نہیں ہو تو زندگانی میں کچھ نہیں ہے ! سناؤں کس کو ؟ کہ اس کہانی میں کچھ نہیں ہے ! بڑی خوشی سے میں رائیگانی میں جی رہا ہوں ! یہ جان کر بھی کہ رائیگانی میں کچھ نہیں ہے ! سنو یہ آنسو کہیں تمہیں بے سکوں نہ کر دے ! یہ صرف پانی ہے اور پانی میں کچھ نہیں ہے ! ضعیف سوچیں ہی ذہن و دل پر جمی پڑی ہیں ! سوائے اس کے بھری جوانی میں کچھ نہیں ہے ! تری نشانی میں یاد تیری بچی تھی دل میں ! مگر یہ سچ ہے کہ اب نشانی میں کچھ نہیں ہے ! کوئی تو رہتا ہے رنج و غم سے پرے وہاں بھی ! میں کیسے مانوں کہ لامکانی میں کچھ نہیں ہے ! وہ مہرباں ہے زمانے بھر کے لیے ! تو ہو گا ! مرے لیے اُس کی مہربانی میں کچھ نہیں ہے ! سوائے وقت اس نئی محبت میں کیا نیا ہے ؟ پرانی جیسی ہے ! اور پرانی میں کچھ نہیں ہے ! یہ جاودانی بھی ہے لباسِ فنا میں پنہاں ! فنا میں سب کچھ ہے ! جاودانی میں کچھ نہیں ہے ! رہیں گے اب زین آخری سانس تک اُسی کے ! کوئی بھلے ہی کہے نمانی میں کچھ نہیں ہے !

— زین شکیل