سپیکرز
انتظار حسین کا پیش کردہ کلام
مرا قلم مرے جذبات مانگنے والے
مرا قلم مرے جذبات مانگنے والے مجھے نہ مانگ مرا ہاتھ مانگنے والے یہ لوگ کیسے اچانک امیر بن بیٹھے یہ سب تھے بھیک مرے ساتھ مانگنے والے تمام گاؤں ترے بھولپن پہ ہنستا ہے دھوئیں کے ابر سے برسات مانگنے والے نہیں ہے سہل اسے کاٹ لینا آنکھوں میں کچھ اور مانگ مری رات مانگنے والے کبھی بسنت میں پیاسی جڑوں کی چیخ بھی سن لٹے شجر سے ہرے پات مانگنے والے تو اپنے دشت میں پیاسا مرے تو بہتر ہے سمندروں سے عنایات مانگنے والے
نہ بھول پائے تمہیں حادثہ ہی ایسا تھا
نہ بھول پائے تمہیں حادثہ ہی ایسا تھا نہ بھر سکا کوئی اس کو خلا ہی ایسا تھا وہ مجھ میں رہ کے مجھے کاٹتا رہا پل پل زباں پہ آ نہ سکا ماجرا ہی ایسا تھا نظر نہ آئی کہیں دور دور تک کوئی موج میں غرق ہو گیا طوفاں اٹھا ہی ایسا تھا نہ آیا لطف کسی اور غم کو جھیلنے میں غم حیات ترا ذائقہ ہی ایسا تھا کھلے تو لب مگر الفاظ دونوں سمت نہ تھے مکالمہ نہ ہوا مرحلہ ہی ایسا تھا اب اس کا رنج بھی کیا کیوں لہولہان ہیں پاؤں چلے تھے جس پہ ظفرؔ راستہ ہی ایسا تھا