ظفرگورکھپوری

ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)

21 November 2025

14سپیکرز
225لسنرز

سپیکرز

انتظار حسین کا پیش کردہ کلام

مرا قلم مرے جذبات مانگنے والے

مرا قلم مرے جذبات مانگنے والے مجھے نہ مانگ مرا ہاتھ مانگنے والے یہ لوگ کیسے اچانک امیر بن بیٹھے یہ سب تھے بھیک مرے ساتھ مانگنے والے تمام گاؤں ترے بھولپن پہ ہنستا ہے دھوئیں کے ابر سے برسات مانگنے والے نہیں ہے سہل اسے کاٹ لینا آنکھوں میں کچھ اور مانگ مری رات مانگنے والے کبھی بسنت میں پیاسی جڑوں کی چیخ بھی سن لٹے شجر سے ہرے پات مانگنے والے تو اپنے دشت میں پیاسا مرے تو بہتر ہے سمندروں سے عنایات مانگنے والے

— ظفرگورکھپوری

نہ بھول پائے تمہیں حادثہ ہی ایسا تھا

نہ بھول پائے تمہیں حادثہ ہی ایسا تھا نہ بھر سکا کوئی اس کو خلا ہی ایسا تھا وہ مجھ میں رہ کے مجھے کاٹتا رہا پل پل زباں پہ آ نہ سکا ماجرا ہی ایسا تھا نظر نہ آئی کہیں دور دور تک کوئی موج میں غرق ہو گیا طوفاں اٹھا ہی ایسا تھا نہ آیا لطف کسی اور غم کو جھیلنے میں غم حیات ترا ذائقہ ہی ایسا تھا کھلے تو لب مگر الفاظ دونوں سمت نہ تھے مکالمہ نہ ہوا مرحلہ ہی ایسا تھا اب اس کا رنج بھی کیا کیوں لہولہان ہیں پاؤں چلے تھے جس پہ ظفرؔ راستہ ہی ایسا تھا

— ظفرگورکھپوری