ظفرگورکھپوری

ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)

21 November 2025

14سپیکرز
225لسنرز

سپیکرز

افتخار احمد کا پیش کردہ کلام

دن کو بھی اتنا اندھیرا ہے مرے کمرے میں

دن کو بھی اتنا اندھیرا ہے مرے کمرے میں سایہ آتے ہوئے ڈرتا ہے مرے کمرے میں غم تھکا ہارا مسافر ہے چلا جائے گا کچھ دنوں کے لیے ٹھہرا ہے مرے کمرے میں صبح تک دیکھنا افسانہ بنا ڈالے گا تجھ کو اک شخص نے دیکھا ہے مرے کمرے میں در بہ در دن کو بھٹکتا ہے تصور میرا ہاں مگر رات کو رہتا ہے مرے کمرے میں چور بیٹھا ہے کہاں سوچ رہا ہوں میں ظفرؔ کیا کوئی اور بھی کمرہ ہے مرے کمرے میں

— ظفرگورکھپوری

میری اک چھوٹی سی کوشش تجھ کو پانے کے لیے

میری اک چھوٹی سی کوشش تجھ کو پانے کے لیے بن گئی ہے مسئلہ سارے زمانے کے لیے ریت میری عمر میں بچہ نرالے میرے کھیل میں نے دیواریں اٹھائی ہیں گرانے کے لیے وقت ہونٹوں سے مرے وہ بھی کھرچ کر لے گیا اک تبسم جو تھا دنیا کو دکھانے کے لیے آسماں ایسا بھی کیا خطرہ تھا دل کی آگ سے اتنی بارش ایک شعلے کو بجھانے کے لیے چھت ٹپکتی تھی اگرچہ پھر بھی آ جاتی تھی نیند میں نئے گھر میں بہت رویا پرانے کے لیے دیر تک ہنستا رہا ان پر ہمارا بچپنا تجربے آئے تھے سنجیدہ بنانے کے لیے میں ظفرؔ تا زندگی بکتا رہا پردیس میں اپنی گھر والی کو اک کنگن دلانے کے لیے

— ظفرگورکھپوری