ظفرگورکھپوری

ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)

21 November 2025

14سپیکرز
225لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

دن کو بھی اتنا اندھیرا ہے مرے کمرے میں

دن کو بھی اتنا اندھیرا ہے مرے کمرے میں سایہ آتے ہوئے ڈرتا ہے مرے کمرے میں غم تھکا ہارا مسافر ہے چلا جائے گا کچھ دنوں کے لیے ٹھہرا ہے مرے کمرے میں صبح تک دیکھنا افسانہ بنا ڈالے گا تجھ کو اک شخص نے دیکھا ہے مرے کمرے میں در بہ در دن کو بھٹکتا ہے تصور میرا ہاں مگر رات کو رہتا ہے مرے کمرے میں چور بیٹھا ہے کہاں سوچ رہا ہوں میں ظفرؔ کیا کوئی اور بھی کمرہ ہے مرے کمرے میں

— ظفرگورکھپوری

اشک غم آنکھ سے باہر بھی نہیں آنے کا

اشک غم آنکھ سے باہر بھی نہیں آنے کا ابر چھٹ جائیں وہ منظر بھی نہیں آنے کا اب کے آغاز سفر سوچ سمجھ کے کرنا دشت ملنے کا نہیں گھر بھی نہیں آنے کا ہائے کیا ہم نے تڑپنے کا صلہ پایا ہے ایسا آرام جو آ کر بھی نہیں آنے کا عہد غالبؔ سے زیادہ ہے مرے عہد کا کرب اب تو کوزے میں سمندر بھی نہیں آنے کا سبزہ دیوار پہ اگ آیا ظفرؔ خوش ہو لو آگے آنکھوں میں یہ منظر بھی نہیں آنے کا

— ظفرگورکھپوری