سپیکرز
راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام
دن کو بھی اتنا اندھیرا ہے مرے کمرے میں
دن کو بھی اتنا اندھیرا ہے مرے کمرے میں سایہ آتے ہوئے ڈرتا ہے مرے کمرے میں غم تھکا ہارا مسافر ہے چلا جائے گا کچھ دنوں کے لیے ٹھہرا ہے مرے کمرے میں صبح تک دیکھنا افسانہ بنا ڈالے گا تجھ کو اک شخص نے دیکھا ہے مرے کمرے میں در بہ در دن کو بھٹکتا ہے تصور میرا ہاں مگر رات کو رہتا ہے مرے کمرے میں چور بیٹھا ہے کہاں سوچ رہا ہوں میں ظفرؔ کیا کوئی اور بھی کمرہ ہے مرے کمرے میں
اشک غم آنکھ سے باہر بھی نہیں آنے کا
اشک غم آنکھ سے باہر بھی نہیں آنے کا ابر چھٹ جائیں وہ منظر بھی نہیں آنے کا اب کے آغاز سفر سوچ سمجھ کے کرنا دشت ملنے کا نہیں گھر بھی نہیں آنے کا ہائے کیا ہم نے تڑپنے کا صلہ پایا ہے ایسا آرام جو آ کر بھی نہیں آنے کا عہد غالبؔ سے زیادہ ہے مرے عہد کا کرب اب تو کوزے میں سمندر بھی نہیں آنے کا سبزہ دیوار پہ اگ آیا ظفرؔ خوش ہو لو آگے آنکھوں میں یہ منظر بھی نہیں آنے کا