سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ملک
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آزاد
انتظار حسین
حماد ابراہیم
راجا اکرام قمر
ریبل
شاز
صباگل
عروج فیاض
مہرزادہ
نایاب
ندیم بخاری
نگاہ بسمل
واجد علی
وقاراحسن
وقاراحسن کا پیش کردہ کلام
پکارے جا رہے ہو اجنبی سے چاہتے کیا ہو
پکارے جا رہے ہو اجنبی سے چاہتے کیا ہو خود اپنے شور میں گم آدمی سے چاہتے کیا ہو یہ آنکھوں میں جو کچھ حیرت ہے کیا وہ بھی تمہیں دے دیں بنا کر بت ہمیں اب خامشی سے چاہتے کیا ہو نہ اطمینان سے بیٹھو نہ گہری نیند سو پاؤ میاں اس مختصر سی زندگی سے چاہتے کیا ہو اسے ٹھہرا سکو اتنی بھی تو وسعت نہیں گھر میں یہ سب کچھ جان کر آوارگی سے چاہتے کیا ہو کناروں پر تمہارے واسطے موتی بہا لائے گھروندے بھی نہیں توڑے ندی سے چاہتے کیا ہو چراغ شام تنہائی بھی روشن رکھ نہیں پائے اب اور آگے ہوا کی دوستی سے چاہتے کیا ہو