ظفرگورکھپوری

ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)

21 November 2025

14سپیکرز
225لسنرز

سپیکرز

وقاراحسن کا پیش کردہ کلام

پکارے جا رہے ہو اجنبی سے چاہتے کیا ہو

پکارے جا رہے ہو اجنبی سے چاہتے کیا ہو خود اپنے شور میں گم آدمی سے چاہتے کیا ہو یہ آنکھوں میں جو کچھ حیرت ہے کیا وہ بھی تمہیں دے دیں بنا کر بت ہمیں اب خامشی سے چاہتے کیا ہو نہ اطمینان سے بیٹھو نہ گہری نیند سو پاؤ میاں اس مختصر سی زندگی سے چاہتے کیا ہو اسے ٹھہرا سکو اتنی بھی تو وسعت نہیں گھر میں یہ سب کچھ جان کر آوارگی سے چاہتے کیا ہو کناروں پر تمہارے واسطے موتی بہا لائے گھروندے بھی نہیں توڑے ندی سے چاہتے کیا ہو چراغ شام تنہائی بھی روشن رکھ نہیں پائے اب اور آگے ہوا کی دوستی سے چاہتے کیا ہو

— ظفرگورکھپوری