ظفرگورکھپوری

ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)

21 November 2025

14سپیکرز
225لسنرز

سپیکرز

ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام

تھی الگ راہ مگر ترک محبت نہیں کی

تھی الگ راہ مگر ترک محبت نہیں کی اس نے بھی سوچا بہت ہم نے بھی عجلت نہیں کی تو نے جو درد کی دولت ہمیں دی تھی اس میں کچھ اضافہ ہی کیا ہم نے خیانت نہیں کی زاویہ کیا ہے جو کرتا ہے تجھے سب سے الگ کیوں ترے بعد کسی اور کی حسرت نہیں کی آئے اور آ کے چلے بھی گئے کیا کیا موسم تم نے دروازہ ہی وا کرنے کی ہمت نہیں کی اپنے اطوار میں کتنا بڑا شاطر ہوگا زندگی تجھ سے کبھی جس نے شکایت نہیں کی ایک اک سانس کا اپنے سے لیا سخت حساب ہم بھی کیا تھے کبھی خود سے بھی مروت نہیں کی

— ظفرگورکھپوری

میری اک چھوٹی سی کوشش تجھ کو پانے کے لیے

میری اک چھوٹی سی کوشش تجھ کو پانے کے لیے بن گئی ہے مسئلہ سارے زمانے کے لیے ریت میری عمر میں بچہ نرالے میرے کھیل میں نے دیواریں اٹھائی ہیں گرانے کے لیے وقت ہونٹوں سے مرے وہ بھی کھرچ کر لے گیا اک تبسم جو تھا دنیا کو دکھانے کے لیے آسماں ایسا بھی کیا خطرہ تھا دل کی آگ سے اتنی بارش ایک شعلے کو بجھانے کے لیے چھت ٹپکتی تھی اگرچہ پھر بھی آ جاتی تھی نیند میں نئے گھر میں بہت رویا پرانے کے لیے دیر تک ہنستا رہا ان پر ہمارا بچپنا تجربے آئے تھے سنجیدہ بنانے کے لیے میں ظفرؔ تا زندگی بکتا رہا پردیس میں اپنی گھر والی کو اک کنگن دلانے کے لیے

— ظفرگورکھپوری