کلامِ شاعر
- 01 شہر میں روشنیاں گھر میں اجالے کم ہیں
- 02 در خیال بھی کھولیں سیاہ شب بھی کریں
- 03 دعا کے بس کا نہیں بد دعا کے بس کا نہیں
- 04 خاک پر خون کی تحریر سے پہچانے گئے
- 05 تجھ سے وابستہ کوئی غم نہی رکھنے والے
- 06 آبروئے شب تیرہ نہیں رکھنے والے
- 07 سرخ سحر سے ہے تو بس اتنا سا گلہ ہم لوگوں کا
- 08 ابھی تو آپ ہی حائل ہے راستا شب کا
- 09 دے اٹھی لو جو ترے ساتھ گزاری ہوئی شام
- 10 پکار اسے کہ اب اس خامشی کا حل نکلے
- 11 لہر کا خواب ہو کے دیکھتے ہیں
- 12 پیکر نور میں ڈھلتا ہی چلا جاتا ہوں
- 13 ہم ایسے سوئے بھی کب تھے ہمیں جگا لاتے
- 14 کسی طرح کی عبادت روا نہیں رکھوں گا
- 15 مٹی سے مشورہ نہ کر پانی کا بھی کہا نہ مان
- 16 یہ اور بات ترے دل میں گھر نہیں کروں گا
- 17 فصیل جسم گرا دے مکان جاں سے نکل
- 18 آنکھوں پہ شب رقم بھی نہیں کر سکوں گا میں
- 19 حرف لفظوں کی طرف لفظ معانی کی طرف
- 20 خلا کے جیسا کوئی درمیان بھی پڑتا
- 21 اب اختیار میں موجیں نہ یہ روانی ہے
- 22 سفر کے بعد بھی ذوق سفر نہ رہ جائے
- 23 اپنی جیسی ہی کسی شکل میں ڈھالیں گے تمہیں
- 24 چلتے ہوئے مجھ میں کہیں ٹھہرا ہوا تو ہے