کلامِ شاعر
- 01 وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی
- 02 تجھے کیا خبر مرے بے خبر مرا سلسلہ کوئی اور ہے
- 03 سکوت شام سے گھبرا نہ جائے آخر تو
- 04 صبا کا نرم سا جھونکا بھی تازیانہ ہوا
- 05 رچے بسے ہوئے لمحوں سے جب حساب ہوا
- 06 مثل صحرا ہے رفاقت کا چمن بھی اب کے
- 07 ملنے کی طرح مجھ سے وہ پل بھر نہیں ملتا
- 08 مرہم وقت نہ اعجاز مسیحائی ہے
- 09 میں بھی اے کاش کبھی موج صبا ہو جاؤں
- 10 کوئی آواز نہ آہٹ نہ خیال ایسے میں
- 11 اس کڑی دھوپ میں سایہ کر کے
- 12 انجیل رفتگاں کی حدیثوں کے ساتھ ہوں
- 13 ہمرہی کی بات مت کر امتحاں ہو جائے گا
- 14 دیا سا دل کے خرابے میں جل رہا ہے میاں
- 15 دیکھ لیتے ہیں اب اس بام کو آتے جاتے
- 16 درد کی دھوپ سے چہرے کو نکھر جانا تھا