کلامِ شاعر
- 01 کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں
- 02 بوسۂ خال کی قیمت مِری جاں ٹھہری ہے
- 03 سوال چھوڑ کہ حالت یہ کیوں بنائی ہے
- 04 تجھے کیا ناصحا احباب خود سمجھائے جاتے ہیں
- 05 شیخ آخر یہ صراحی ہے کوئی خم تو نہیں
- 06 باغ عالم میں رہے شادی و ماتم کی طرح
- 07 آہ سن کے جلے ہوئے دل کی
- 08 نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالے
- 09 مجھے پھول صبر کر لیں مجھے باغباں بھلا دے
- 10 یہ رستے میں کس سے ملاقات کر لی
- 11 کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو
- 12 اس تفکر میں سرِ بزم سحر ہوتی ہے
- 13 پیتے ہی سرخ آنکھیں ہیں مست شراب کی
- 14 اے مرے ہم نشیں چل کہیں اور چل اس چمن میں اب اپنا گزارہ نہیں
- 15 بصد خلوص بصد احترام کرتے چلو
- 16 حالات گلستاں پہ بہت ہم نے نظر کی
- 17 دریا دلی کہوں تری کیا ساقیا کہ بس
- 18 چمن روئے ہنسے شبنم بیاباں پر نکھار آئے
- 19 وہ نہ آئیں گے کبھی دیکھ کے کالے بادل
- 20 نہ جاؤ گھر ابھی تو رات ہے بادل بھی کالے ہیں
- 21 مریض محبت انہیں کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے