پیر نصیرالدین

آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر

08 February 2026

20سپیکرز
260لسنرز

سپیکرز

گلشن شیرازی کا پیش کردہ کلام

کبھی ان کا نام لینا کبھی ان کی بات کرنا

کبھی ان کا نام لینا کبھی ان کی بات کرنا مرا ذوق ان کی چاہت مرا شوق ان پہ مرنا وہ کسی کی جھیل آنکھیں وہ مری جنوں مزاجی کبھی ڈوبنا ابھر کر کبھی ڈوب کر ابھرنا ترے منچلوں کا جگ میں یہ عجب چلن رہا ہے نہ کسی کی بات سننا، نہ کسی سے بات کرنا شب غم نہ پوچھ کیسے ترے مبتلا پہ گزری کبھی آہ بھر کے گرنا کبھی گر کے آہ بھرنا وہ تری گلی کے تیور، وہ نظر نظر پہ پہرے وہ مرا کسی بہانے تجھے دیکھتے گزرنا کہاں میرے دل کی حسرت، کہاں میری نارسائی کہاں تیرے گیسوؤں کا، ترے دوش پر بکھرنا چلے لاکھ چال دنیا ہو زمانہ لاکھ دشمن جو تری پناہ میں ہو اسے کیا کسی سے ڈرنا وہ کریں گے نا خدائی تو لگے گی پار کشتی ہے نصیرؔ ورنہ مشکل، ترا پار یوں اترنا

— پیر نصیرالدین